کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 اکتوبر2025ء) پاکستان سمیت دنیا بھر میں 9اکتوبرکو ڈاک کا عالمی دن منایاگیا۔ورلڈ پوسٹ ڈے منانے کا مقصد ڈاک کے نظام اور اس کی خدمات کے حوالے سے شعور و آگاہی پیدا کرنا ہے، خط جسے آدھی ملاقات کہا جاتا ہے کسی دور میں پیغام رسانی کا اہم ترین ذریعہ تھا، ڈاک کا عالمی دن ہمیں اسی سفر کی یاد دلاتا ہے جہاں کاغذ کے ایک ٹکڑے سے دلوں کا تعلق قائم ہوتا تھا۔

واضح رہے کہ 9اکتوبر انسانی تاریخ کا وہ سنہرا دن ہے جب 1874 میں سوئٹزر لینڈ کے شہر برن میں یونیورسل پوسٹل یونین کے عنوان سے پہلی باقائدہ پوسٹل یونین کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے ذریعے لوگ دنیا میں کہیں بھی موجود اپنے پیاروں کوتحریری پیغامات اور مراسلے بھجوا سکتے تھے۔

(جاری ہے)

9اکتوبر1969 میں جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں یونیورسل پوسٹل یونین کی عالمی کانگریس ہوئی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈاک کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر آئندہ اس روز کو عالمی سطح پر منایا جائے تاکہ مختلف تقاریب اور سیمینارز کا انعقاد کر کے سلسلہ ڈاک کی ترقی کے لیے دنیا بھر میں آگاہی پیدا کی جا سکے۔

اس دن کے بعد 9اکتوبر کو ہر سال دنیا بھر میں ورلڈ پوسٹ ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے، دنیا میں سلسلہ رسل و رسائل زمانہ قدیم سے ہی چل رہاہے سیکڑوں سال قبل مسیح کے دور میں بھی اس کے آثار ملتے ہیں، چین کا شمار ان چند ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے پیغام رسانی کے لیے ڈاک کے طریقے کو باقائدہ اپنایا۔قیام پاکستان کے بعد ملک میں ابتدائی سالوں کے دوران برطانوی دور کے ڈاک ٹکٹ استعمال کئے جاتے رہے، محکمہ ڈاک قیام پاکستان سے اب تک مختلف مواقع کی مناسبت سے 1300سے زائد مختلف مالیتوں کے ٹکٹ جاری کر چکا ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ آنے والی تبدیلیوں اور جدید ٹیکنالوجی کے باعث دنیا میں پیغام رسانی کے لیے ڈاک کی جگہ ٹیلی فون، موبائل فون اور کمپیوٹر نے لے لی ہے جوکہ کم خرچ بھی ہے اور فوری بھی تاہم تعلیمی ودفتری دستاویزات ہوں یا کچھ اور معاملات ڈاک کی اہمیت آج بھی دنیا بھر میں مسلمہ ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے دنیا بھر میں ڈاک کی

پڑھیں:

99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی

بنگلا دیش کے وزیر خارجہ خالد الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس (2026-2027) کے لیے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک سخت اور قریبی مقابلے میں قبرص کے امیدوار آندریاس ایس کاکورس کو شکست دی۔

193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں خالد الرحمان نے 99 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف آندریاس کاکورس کو 91 ووٹ ملے۔ انتخاب میں کوئی رکن ملک غیر حاضر یا غیر جانبدار نہیں رہا۔ کامیابی کے لیے 96 ووٹ درکار تھے۔

اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق جنرل اسمبلی کے صدر کا انتخاب ہر سال تمام رکن ممالک کی خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ہر ملک کو ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔

اگرچہ یہ انتخاب باضابطہ طور پر مسابقتی ہوتا ہے، تاہم عمومی طور پر مختلف علاقائی گروپوں کے درمیان باری باری صدارت کا اصول اپنایا جاتا ہے۔

81 ویں اجلاس کے لیے ایشیا پیسیفک گروپ کو امیدوار نامزد کرنے کا حق حاصل تھا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش اور قبرص کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔

خالد الرحمان ستمبر 2026 میں جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے آغاز پر اپنے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھالیں گے اور ایک سال تک اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اس دوران وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت، عالمی مسائل پر مباحثے کی نگرانی اور رکن ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ادا کریں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی عالمی سفارت کاری میں بنگلا دیش کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کو ایک اہم سفارتی منصب سمجھا جاتا ہے جو عالمی امن، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ کی اصلاحات جیسے اہم معاملات پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خالد الرحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ خالد الرحمان کا وسیع سفارتی تجربہ اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے ان کی وابستگی جنرل اسمبلی کی مؤثر قیادت میں اہم کردار ادا کرے گی۔

Heartiest felicitations to my dear brother, H.E. Dr. Khalilur Rahman, Foreign Minister of Bangladesh on his election as President of the 81st Session of the UN General Assembly.

Having had closely engaged with him, I am confident that his vast diplomatic experience and steadfast…

— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) June 2, 2026

اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور عالمی امن، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی مکالمے کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال