درخواست اندراج مقدمات پر سماعت اختتام پذیر، عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کی جانب سے اندراجِ مقدمات کی درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی کے روبرو علیمہ خان کی مقدمات اندراج کی درخواستوں پر سماعت مکمل ہوگئی، جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ علیمہ خان نے اپنی درخواست میں اڈیالہ جیل کے باہر کارکنوں کو ہراساں کرنے پر مقدمات درج کرنے کی استدعا ہے۔ علاوہ ازیں علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر انڈہ پھینکنے کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت بھی مکمل ہوگئی۔ قبل ازیں تینوں بہنیں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین خان راولپنڈی کچہری پہنچیں، جہاں انہوں نے عدالت میں دائر درخواست میں استدعا کی کہ ہائی کورٹ کے حکم باوجود عمران خان کو جیل مینوئل کے مطابق سہولتیں دینے کا حکم دیا جائے ۔ جیل سہولیات کے بارے میں ہائی کورٹ نے جو احکامات دیے ہیں، ان پر عمل کرایا جائے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کارکنوں سمیت علیمہ خان اور ان کی بہنوں کو گرفتار کر کے رات گئے ویرانے میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ رات گئے ویرانے میں چھوڑنے سے کوئی واقعہ ہوسکتا ہے، لہٰذا ایسا کرنے سے روکا جائے۔ علاوہ ازیں اڈیالہ جیل میں عمران خان کی ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق آئسولیشن ختم کرنے کا حکم دیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔