سونم وانگچک کی گرفتاری کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سپریم کورٹ کل سماعت کریگا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
مودی حکومت نے وانگچک پر تشدد بھڑکانے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں گرفتار کیا تھا، ترمیم شدہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ گرفتاری کا حکم کی بنیاد باسی ایف آئی آرز، مبہم الزامات اور قیاس آرائی پر مبنی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کل یعنی 24 نومبر کو سونم وانگچک کی اہلیہ کی طرف سے دائر درخواست پر سماعت کرے گی۔ درخواست میں سخت قومی سلامتی ایکٹ کے تحت ماحولیاتی کارکن کی حراست کو غیر قانونی اور ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے 29 اکتوبر کو وانگچک کی بیوی گیتانجلی جے انگمو کی ترمیم شدہ عرضی پر مرکز اور لداخ انتظامیہ سے جواب طلب کیا تھا۔ سپریم کورٹ کی 24 نومبر کی کاز لسٹ کے مطابق، عرضی جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا کی بنچ کے سامنے سماعت کے لئے آنے والی ہے۔
سونم وانگچک کو 26 ستمبر کو قومی سلامتی ایکٹ (NSA) کے تحت حراست میں لیا گیا تھا، لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور چھٹے شیڈول کا درجہ دینے کے لئے پرتشدد مظاہروں کے دو دن بعد مرکز کے زیر انتظام علاقے میں چار افراد ہلاک اور 90 زخمی ہوئے تھے۔ مودی حکومت نے وانگچک پر تشدد بھڑکانے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں گرفتار کیا تھا۔ ترمیم شدہ درخواست میں کہا گیا ہے "گرفتاری کا حکم کی بنیاد باسی ایف آئی آرز، مبہم الزامات اور قیاس آرائی پر مبنی ہے، اس میں حراست کی مبینہ بنیادوں سے کوئی براہ راست یا قریبی تعلق نہیں ہے اور اس طرح یہ کسی قانونی یا حقیقتی جواز سے خالی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ احتیاطی اختیارات کا اس طرح کا صوابدیدی استعمال اختیارات کا غلط استعمال ہے، جو آئینی آزادیوں اور مناسب عمل کی بنیاد پر حملہ کرتا ہے، درخواست میں کہا گیا کہ یہ مکمل طور پر مضحکہ خیز ہے کہ لداخ اور پورے ہندوستان میں نچلی سطح پر تعلیم، اختراع اور ماحولیاتی تحفظ میں ان (سونم وانگچک) کی شراکت کے لئے ریاستی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے کے تین دہائیوں سے زیادہ کے بعد، وانگچک کو اچانک نشانہ بنایا جائے گا۔
انتخابات اور اے بی ایل (لیہہ کی اعلیٰ باڈی)، کے ڈی اے (کرگل ڈیموکریٹک الائنس) اور وزارت داخلہ کے درمیان بات چیت کے آخری دور سے محض دو ماہ قبل، انہیں زمین کی لیز کی منسوخی، ایف سی آر اے کی منسوخی، سی بی آئی کی تحقیقات شروع کرنے اور محکمہ انکم ٹیکس کے نوٹس بھیجے گئے۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ وقتی قربت میں کئے گئے ان مربوط اقدامات سے یہ اولین طور پر واضح ہوتا ہے کہ سونم وانگچک کی گرفتاری کا حکم امن عامہ یا سلامتی کے حقیقی خدشات پر مبنی نہیں ہے بلکہ اس کے بجائے اختلاف رائے کے اپنے جمہوری اور آئینی حق کو استعمال کرنے والے معزز شہری کو خاموش کرنے کی ایک حسابی کوشش ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ 24 ستمبر کو لیہہ میں تشدد کے افسوسناک واقعات کو کسی بھی طرح سے وانگچک کے اقدامات یا بیانات سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ سونم وانگچک نے خود اپنے سوشل میڈیا ہینڈلز کے ذریعے تشدد کی مذمت کی ہے اور واضح طور پر کہا ہے کہ تشدد لداخ کی "تپسیا" اور پانچ سالوں کی پُرامن تعاقب کی ناکامی کا باعث بنے گا اور کہا کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے افسوسناک دن ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ 28 دن کی واضح تاخیر کے بعد ہی سونم وانگچک کو حراست کی مکمل بنیاد فراہم کی گئی تھی، جو کہ این ایس اے کے سیکشن 8 کے تحت طے شدہ قانونی ٹائم لائن کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: درخواست میں کہا گیا ہے میں کہا گیا ہے کہ سونم وانگچک سپریم کورٹ وانگچک کی
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔