غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ نافذالعمل ہوگیا؛ مصری میڈیا کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
غزہ میں برسوں سے جاری خونریزی کے بعد بالآخر جنگ بندی معاہدہ نافذالعمل ہوگیا۔ مصری میڈیا کے مطابق یہ تاریخی پیش رفت پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 2 بجے ہوئی، جب فریقین کے درمیان طے پانے والا غزہ امن معاہدہ عملی طور پر مؤثر ہوگیا۔
مصری نشریاتی ادارے القاہرہ ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ معاہدے کے نفاذ کے بعد غزہ میں فائر بندی اور فوجی کارروائیوں کا سلسلہ رک گیا ہے۔
مصر کی وزارتِ خارجہ نے اس پیش رفت کو ’’اہم اور نازک لمحہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شرم الشیخ میں ہونے والے مذاکرات نے غزہ جنگ میں ایک فیصلہ کن موڑ فراہم کیا ہے۔
مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ پیرس روانہ ہوں گے، جہاں وہ غزہ کی صورتحال پر ہونے والے وزارتی اجلاس میں شریک ہوں گے تاکہ امن عمل کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
ادھر اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے بیان میں کہا ہے کہ جنگ بندی آج شام اسرائیلی حکومت کی باضابطہ توثیق کے بعد نافذالعمل ہوگی۔ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق غزہ میں موجود 20 اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اتوار یا پیر کو متوقع ہے، جسے امن معاہدے کا پہلا عملی مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق حماس اور اسرائیل کے درمیان دستخط آج متوقع ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ فریقین دوپہر تک معاہدے پر باضابطہ دستخط کریں گے، جس کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر اسرائیلی فوج کا جزوی انخلا شروع ہو جائے گا۔
اسی تناظر میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے معاہدے کی منظوری کے لیے دو خصوصی اجلاس طلب کرلیے ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ عمل درآمد کی تیاریوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
تل ابیب میں یرغمالیوں کے اہلِ خانہ نے امید کا اظہار کرتے ہوئے اس معاہدے کو ’’امن کی جانب ایک مثبت قدم‘‘ قرار دیا ہے۔
ادھر غزہ شہر اور خان یونس کی گلیوں میں جنگ سے تھکے ہوئے شہری ایک دوسرے کو گلے لگاتے اور معاہدے کی مبارکباد دیتے نظر آئے۔ ان کے چہروں پر برسوں بعد امن کی امید کی چمک دیکھی گئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان امن معاہدے پر دستخط مکمل ہو چکے ہیں، اور توقع ظاہر کی تھی کہ پیر سے یرغمالیوں کی واپسی کا عمل شروع ہو جائے گا۔
عالمی سطح پر بھی یہ پیش رفت خوش آئند قرار دی جا رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل، وزیراعظم پاکستان اور دیگر عالمی رہنماؤں نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کی جانب ایک امید افزا کوشش ہے، جو خطے کے لیے نئے دور کی شروعات ثابت ہو سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔