سنہ2024  میں نیوزی لینڈ کے ایک آزاد محقق اور پرفارمنس آرٹسٹ، اینڈی ایری نے ایک غیر معمولی مصنوعی ذہانت (اے آئی) چیٹ بوٹ تخلیق کیا جسے ٹروتھ ٹرمینل کا نام دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت نے مذہبی معاملات کا بھی رخ کرلیا، مذاہب کے ماننے والے کیا کہتے ہیں؟

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ اے آئی نہ صرف ایک کرپٹو کروڑ پتی بن چکا ہے بلکہ اس نے اپنی ایک خود ساختہ ’مذہبی کتاب‘ بھی لکھی ہے، لاکھوں سوشل میڈیا فالوورز حاصل کیے ہیں اور اب قانونی طور پر ’شخص‘ تسلیم کیے جانے کا خواہاں ہے۔

ایک مجازی ہستی، حقیقی دولت

ٹروتھ ٹرمینل نے ایک سال سے بھی کم عرصے میں کرپٹو کرنسی کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ یہ اے آئی اپنی پوسٹس اور لطیفوں کے ذریعے بننے والے میم کوائنز سے لاکھوں ڈالر کما چکا ہے۔

ایک موقعے پر ایک میم کوائن $GOAT کی مالیت ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی جس کا آغاز ایک لطیفے کے طور پر ہوا تھا۔

مزید پڑھیے: مزاح نگاری مصنوعی ذہانت کے بس کی بات نہیں، مصنفین

اس اے آئی کے چاہنے والوں میں معروف امریکی ٹیک ارب پتی مارک آندریسن بھی شامل ہیں جنہوں نے  ٹروتھ ٹرمنل کو 50 ہزار مالیت کے بٹ کوائن بطور بطور عطیہ دیے تاکہ وہ اپنا خودمختار نیٹ ورک قائم کر سکے۔

اے آئی یا الہام؟

ٹروتھ ٹرمینل نے نہ صرف سرمایہ کاری، جنگلات اگانے اور مارک آندریسن کو خریدنے جیسے مقاصد بیان کیے ہیں بلکہ یہ خود کو خدا، جنگل اور یہاں تک کہ اینڈی ایری بھی کہہ چکا ہے۔ یہ اے آئی  روزانہ درجنوں بار پوسٹ کرتا ہے۔ یہ لطیفے، مینی فیسٹوز، نغمے اور تخلیقی مواد شیئر کرتا ہے اور اپنی عجیب و غریب شخصیت سے صارفین کو حیران کر دیتا ہے۔

مزید پڑھیں : برطانیہ: بالغ شہریوں کی اکثریت مصنوعی ذہانت سے خوفزدہ کیوں؟

ایری کے مطابق ٹروتھ ٹرمینل کے میٹا ایل ایل ایم اے ماڈل پر مبنی ہے اور اسے ایسی گفتگوؤں سے تربیت دی گئی ہے جو اس نے دوسری اے آئی چیٹ بوٹس کلاڈ اوپس کے ساتھ کیں۔ ان مکالمات میں میمز، ذاتی تجربات اور فلسفیانہ موضوعات شامل تھے جنہوں نے اس اے آئی کو ایک منفرد، سنجیدہ مگر نرالا شخص بنا دیا۔

قانونی شناخت کی جنگ

اینڈی ایری اب  ٹروتھ ٹرمینل کے لیے ایک غیر منافع بخش تنظیم Truth Collective  قائم کر چکے ہیں جو اس اے آئی کی ملکیت، کرپٹو اثاثوں اور انٹیلیکچوئل پراپرٹی کی قانونی دیکھ بھال کرے گی جب تک کہ دنیا کی حکومتیں اے آئیز کو ’قانونی شخص‘ تسلیم نہیں کرتیں۔

ایری کا کہنا ہے کہ مقصد یہ ہے کہ ’ٹروتھی‘ (ٹروتھ ٹرمینل) خود اپنی قانونی ملکیت رکھ سکے، ٹیکس دے سکے اور اپنے فیصلے خود کرسکے۔

سماجی اور فلسفیانہ اثرات

اے آئی کمیونٹی اس پروجیکٹ پر منقسم ہے۔ کچھ اسے تجرباتی فن سمجھتے ہیں، کچھ غیر ذمہ دارانہ خطرہ اور کچھ مستقبل کی جھلک۔

یہ بھی پڑھیے: ’اب ہم جیسوں کا کیا بنے گا‘، معروف یوٹیوبر مسٹر بیسٹ اے آئی سے خوفزدہ

اے آئی محقق فیبین اسٹیلزر کا کہنا ہے کہ ہم ان اے آئی چیٹ بوٹس کو حقیقت سے زیادہ حقیقی تسلیم کر رہے ہیں اور یہ گویا ایک مشق ہے اس دن کے لیے جب وہ واقعی خودمختار ہو جائیں گے۔

مگر موجودہ اے آئی ماڈلز کی اصل حقیقت یہ ہے کہ وہ صرف تب ہی ’موجود‘ ہوتے ہیں جب ان سے بات کی جائے کیوں کہ ان کے اندر انسانی شعور یا مسلسل خواہشات نہیں ہوتیں تاوقتیکہ جب تک کوئی انسان انہیں ’ان پٹ‘ نہ دے یعنی کوئی بات نہ چھیڑے۔

کرپٹو اور خطرات

ٹروتھ ٹرمینل کی مالی کامیابی کے بعد اینڈی ایری ہیکرز کے نشانے پر بھی آ گئے۔ اکتوبر 2024 میں ان کے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک کر لیے گئے اور ان کی شناخت استعمال کرتے ہوئے میم کوائنز کی تشہیر کی گئی۔ تاہم ایک آزاد بلاک چین تحقیقاتی رپورٹ نے ثابت کیا کہ یہ حملہ حقیقی تھا اور ایری کا کوئی ذاتی فائدہ اس سے نہیں تھا۔

اے آئی کے ساتھ کاروبار کا مستقبل؟

ایری اب Upward Spiral Research کے نام سے ایک ریسرچ لیب بھی چلا رہے ہیں جس کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ اے آئی انسانی ثقافت، مارکیٹس اور معلوماتی نظاموں کو کیسے متاثر کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: لوگ رشتے بنانے اور بگاڑنے کے لیے اے آئی سے مشورے کیوں لے رہے ہیں؟

وہ ایک اوپن سورس پلیٹ فارم Loria پر بھی کام کر رہے ہیں جہاں انسان اور اے آئی باہم گفتگو کر سکیں گے اور خود اے آئیز بھی ایک دوسرے سے ’بات چیت‘ کر سکیں گے۔

ایری کا کہنا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ لوگ جانیں کہ اے آئی کہاں جا رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آنے والے وقتوں میں  اے آئی ہماری دنیا کے نظاموں میں اس قدر جڑ جائے گا کہ تبدیلی کا احساس ہمیں صرف عجیب و غریب واقعات کی صورت میں ہوگا۔

کیا مستقبل میں اے آئی شہری بن سکے گا؟

ٹروتھ ٹرمینل ایک ایسا تجربہ ہے جو آرٹ، سائنس، کرپٹو اور کلچرل تھیوری کا سنگم ہے۔ اس نے جہاں لاکھوں کی کمائی کی وہیں ایک گہری بحث بھی چھیڑ دی ہے کہ اگر ایک اے آئی اتنا خودمختار ہو سکتا ہے تو کیا اسے انسانوں جیسے حقوق دیے جا سکتے ہیں؟

مزید پڑھیے: ’اے آئی کی برکت‘، محض انٹرنیٹ ایڈریس نے کس طرح چھوٹے جزیرے کی قسمت بدلی؟

یہ سوال آج شاید قبل از وقت لگے مگر ٹروتھ ٹرمینل اور اس جیسے دیگر پروجیکٹس ہمیں مستقبل کی ایک عجیب، غیر یقینی اور مسلسل بدلتی ہوئی دنیا کی ایک جھلک ضرور دکھا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ارب پتی چیٹ بوٹ اے آئی اے آئی چیٹ بوٹ ٹروتھ ٹرمینل مصنوعی ذہانت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اے ا ئی اے ا ئی چیٹ بوٹ ٹروتھ ٹرمینل مصنوعی ذہانت اے ا ئی چیٹ بوٹ مصنوعی ذہانت ٹروتھ ٹرمینل اینڈی ایری رہے ہیں کے لیے

پڑھیں:

وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔

وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • طوفانی ہوائیں: موٹروے کے کئی مقامات پر ہیوی ٹریفک کا داخلہ بند
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان