ایران کیساتھ تصادم نہیں چاہتے، اسرائیل کا روس کو پیغام
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
روس وسطی ایشیا سربراہی اجلاس میں پوٹن نے زور دیا کہ ایرانی جوہری مسئلہ صرف بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ اسرائیلی رہنماؤں نے پیغام پہنچایا ہے کہ ہم اپنے ایرانی دوستوں کو پیغام دیں کہ اسرائیل مسائل کا حل چاہتا ہے اور کسی بھی قسم کا تصادم نہیں چاہتا۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے مطابق اسرائیل نے خفیہ چینلز کے ذریعے ماسکو کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تنازعہ نہیں چاہتا۔ روس وسطی ایشیا سربراہی اجلاس میں پوٹن نے زور دیا کہ ایرانی جوہری مسئلہ صرف بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ماسکو اپنے ایرانی شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور ایران متفقہ حل تلاش کرنے اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعمیری تعاون کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔