گوگل کا بڑا فیصلہ، پاکستانی اسٹوڈنٹس کیلئے ایک سال تک اے آئی پرو پلان بالکل مفت
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گوگل نے پاکستانی طلبا کے لیے ایک شاندار تعلیمی پیشکش کا اعلان کیا ہے جس کے تحت 18 سال یا اس سے زائد عمر کے طالبعلم اب گوگل اے آئی پرو پلان کی ایک سالہ مفت سبسکرپشن حاصل کر سکیں گے۔
یہ اقدام طلبا کو جدید مصنوعی ذہانت کے ٹولز تک رسائی فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی تعلیم، تحقیق اور تخلیقی منصوبوں میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔
گوگل کے مطابق اس پلان کی عام فیس پاکستان میں 5600 روپے ماہانہ ہے، تاہم طالبعلموں کے لیے یہ سہولت بلا معاوضہ فراہم کی جا رہی ہے۔ اس پروگرام کے تحت طلبا کو گوگل کے جدید ترین جیمنائی 2.
جیمنائی اے آئی پرو پلان کے ذریعے گوگل کے مختلف ایپس جیسے جی میل، ڈاکس، شیٹس، سلائیڈز اور میٹ میں اے آئی کی براہِ راست سہولت شامل کر دی گئی ہے، جس سے ای میلز کا خلاصہ تیار کرنا، پریزنٹیشنز بنانا اور ڈیٹا کا تجزیہ کرنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ نوٹ بک ایل ایم نامی فیچر بھی دستیاب ہوگا جو تحقیقی اور تحریری کام کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔
اس منصوبے کے تحت طلبا کو دو ٹیرا بائٹس کلاؤڈ اسٹوریج بھی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنی تعلیمی فائلیں اور پراجیکٹس محفوظ رکھ سکیں۔ گوگل کا کہنا ہے کہ یہ قدم اس کے عالمی مشن کا حصہ ہے جس کے ذریعے وہ دنیا بھر کے طلبا کو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے تعلیمی ترقی کے مزید مواقع فراہم کرنا چاہتا ہے۔
پاکستان سمیت ایشیا پیسفک خطے کے طلبا اب اس پروگرام کے اہل ہیں۔
یونیورسٹی کے طلبا ایک سال کے لیے مفت رسائی حاصل کرنے کے لیے درج ذیل لنک پر سائن اپ کر سکتے ہیں:
???? https://one.google.com/intl/en/about/articles/google-ai-for-students
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: طلبا کو کے لیے اے آئی
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔