کرکٹ میں بھی مصنوعی ذہانت کا استعمال، گوگل جیمنائی نے پچ رپورٹنگ سنبھال لی
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وشاکاپٹنم: جدید ٹیکنالوجی نے کرکٹ کی دنیا میں بھی قدم جما لیا ہے اور اب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پچ رپورٹنگ کے عمل میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرلیا ہے۔
ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ 2025 کے دسویں میچ سے قبل وشاکاپٹنم کے اے سی اے وی ڈی سی اے اسٹیڈیم میں بھارتی ویمن ٹیم کی سابق کپتان متھالی راج نے پچ رپورٹ پیش کی۔ اس موقع پر انہوں نے ناظرین کو بتایا کہ آج وہ پچ کے تجزیے کے لیے گوگل کے مصنوعی ذہانت والے ٹول جیمنائی کی مدد لے رہی ہیں۔
متھالی راج نے اپنے موبائل فون کے ذریعے جیمنائی کے لائیو فیچر کا استعمال کرتے ہوئے کیمرے سے پچ کا جائزہ دکھایا اور اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “ہم ایک روزہ میچ کے لیے وشاکاپٹنم میں موجود ہیں، یہاں موسم گرم اور مرطوب ہے، ذرا بتاؤ یہ پچ کس نوعیت کی نظر آتی ہے؟”
جیمنائی نے جواب میں کہا کہ پچ مجموعی طور پر بیٹنگ کے لیے سازگار دکھائی دیتی ہے، سطح ہموار اور سیدھی ہے جبکہ گھاس بھی کم ہے، اس لیے گیند زیادہ سوئنگ نہیں کرے گی۔ مصنوعی ذہانت کے مطابق ان حالات میں ہائی اسکورنگ میچ کا امکان زیادہ ہے۔
بعد ازاں متھالی راج نے اپنے تجزیے میں بھی اس رائے سے اتفاق کیا اور کہا کہ ’’یہ وکٹ یقیناً بیٹرز کے لیے مثالی ثابت ہوسکتی ہے، شائقین کو ایک دل چسپ اور زیادہ رنز والا مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔‘‘
واضح رہے کہ ویمنز ورلڈ کپ کے اس اہم میچ میں آج بھارت اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں آمنے سامنے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مصنوعی ذہانت کے لیے
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔