فلم لکھاری سلیم خان کے بیٹے اور سلمان خان کے بھائی، اداکار ارباز خان کے یہاں ننھی پری کی آمد ہوئی ہے جسے انھوں نے ایک نہایت خوبصورت نام دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ارباز خان کے گھر خوشیوں نے ایک بار پھر دستک دے دی ہے۔ 58 سالہ ارباز خان دوسری بار والد بن گئے۔

ارباز خان اور ان کی دوسری اہلیہ مشہور میک اپ آرٹسٹ شورا خان کے ہاں 5 اکتوبر کو بیٹی کی پیدائش ہوئی تھی۔

دونوں نے آج اپنی بیٹی کی پیدائش کا اعلان ایک خوبصورت انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعے کیا، جس میں بیٹی کا نام بھی بتادیا۔

ارباز اور شورا نے ننھی پری کا نام سپارہ رکھا اور پوسٹ کے کیپشن میں الحمد اللہ لکھ کر اس نعمت پر رب کائنات کا شکر بھی ادا کیا۔

اس خبر کے سوشل میڈیا پر عام ہوتے ہی جوڑے کے لیے مبارک بادوں کا تانتا بندھ گیا۔ مداحوں نے بیٹی سپارہ خان کے لیے دعاؤں اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

کچھ مداحوں نے مذاقاً لکھا کہ "اب سلیم بھائی کو دادا، اور سلمان خان کو چچا کی نئی ڈیوٹی انجام دینا ہوگی۔

آج ہی ممبئی کے ایک اسپتال کے باہر ارباز خان کو اپنی ننھی بیٹی کو بازوؤں میں اٹھائے دیکھا گیا وہ نومولد بیٹی اور اہلیہ کو گھر لے گئے۔

یاد رہے کہ ارباز خان نے دسمبر 2023 میں شورا خان سے دوسری شادی کی تھی۔ اس سے قبل ان کی پہلی شادی ملائیکہ اروڑہ سے ہوئی تھی اور دونوں کا ایک بیٹا بھی ہے۔

ملائیکہ اروڑہ کے ساتھ شادی تقریباً 20 سال چلی جس کے بعد دونوں کے درمیان 2017 میں طلاق ہوگئی تھی۔

طلاق کے بعد ملائیکہ اروڑہ کا افیئر خود سے کافی چھوٹے ارجن کپور کے ساتھ رہا جو 2024 میں ختم ہوا جس کے بعد وہ آج کل ایک ماڈل اور اداکار ڈینو وریا کے ساتھ دیکھی جاتی ہیں۔

A post common by sshura Khan (@sshurakhan)

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: خان کے

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق