Juraat:
2026-07-24@13:41:09 GMT

بھارت میں بڑھتی ہوئی مسلم دشمنی

اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT

بھارت میں بڑھتی ہوئی مسلم دشمنی

ریاض احمدچودھری

بھارت میں بڑھتی ہوئی مسلم دشمنی مودی حکومت کے نظریاتی بیانیے اور ہندو قوم پرستی کے عروج کا نتیجہ ہے، جس نے ملک کے سیکولر تشخص کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔بھارتی ریاست مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال پر پابندی کے بعد وہاں کی مساجد اذان کے لیے موبائل ایپلی کیشن استعمال کرنے لگ گئیں۔ ممبئی میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال پر پولیس نے مساجد کو روکا تھا، جس کے بعد مساجد منتظمین کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جانے لگا ہے۔ممبئی بھر کی نصف درجن مساجد نے اذان آن لائن نامی ایپلی کیشن کا استعمال کرنا شروع کردیا جو کہ نمازیوں کو ریئل ٹائم اذان سنانے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔مذکورہ ایپلی کیشن ریاست تامل ناڈو کے مسلمان انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) ماہرین نے تیار کی ہے جو کہ نمازیوں کو اذان ہونے کے وقت ریئل ٹائم میں اذان سننے کا موقع فراہم کرتی ہے۔مذکورہ ایپلی کیشن کے ذریعے مساجد کو رجسٹریشن کروانی پڑتی ہے، جس کے بعد مذکورہ مساجد کے ارد گرد کے نمازی مسجد کے اذان کے وقت اپنے موبائل پر ریئل ٹائم میں اذان سن سکتے ہیں۔ایپلی کیشن فیچرز کے تحت نمازیوں کو بھی ایپلی کیشن میں رجسٹریشن کروانی پڑتی ہے، انہیں اپنے علاقے اور مسجد کا نام بھی مینشن کرنا پڑتا ہے، جس کے بعد انہیں مقررہ وقت پر موبائل میں اذان سننے کو ملتی ہے۔
خیال رہے کہ ممبئی میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن کیرت سومیا نے مہم شروع کی تھی اور انہوں نے مساجد میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال کو صوتی آلودگی سے جوڑا تھا، ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی مہم کے بعد مساجد سے 1500 سے لاؤڈ اسپیکرز اتارے جا چکے ہیں۔ان کی مہم کے خلاف مسلم علما نے بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا تھا اور عدالت نے جنوری 2025 میں قرار دیا تھا کہ مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کا ایک حد تک استعمال صوتی آلودگی میں شمار نہیں ہوتا۔عدالت کے مطابق مساجد میں دن کے وقت لاؤڈ اسپیکرز کی اسپیڈ 55 ڈیسیبل اور رات میں 45 ڈیسیبل تک ہو تو پھر وہ صوتی آلودگی کا سبب نہیں بنتے۔عدالتی فیصلے کے بعد ممبئی پولیس نے مساجد منتظمین کو بلیک میل کرنا شروع کیا اور ان پر لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال کو ترک کرنے کا دباؤبھی ڈالتی رہی، جس کے بعد مساجد منتظمین نے ایپلی کیشن کے استعمال کو بہتر آپشن سمجھا۔
بھارتی حکومت نے مساجد، مدارس اور درگاہوں جیسے مسلمانوں کے مذہبی اور خیراتی اثاثوں کو کنٹرول کرنے والے وقف بورڈ کے قانون میں ترمیم کا اعلان کیا ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے 1995 کے وقف قانون میں ترمیم کا بل اسمبلی میں متعارف کروایا ہے، جس کی مسلمان اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں مخالفت کر رہے ہیں۔حکومت کی ان ترامیم کو وقف کے املاک کو ریگولیٹ کرنے کی سمت میں ایک بڑے فیصلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔وقف بورڈ کے قوانین میں کی گئی ترامیم حکومت کو اجازت دیتی ہیں کہ وہ ازخود یہ تعین کرے کہ کوئی جائیداد وقف کی ملکیت کیسے بنے گی یا ریاستوں میں قائم وقف بورڈ کی تشکیل کیسے ہو گی۔وقف املاک کا معاملہ حالیہ برسوں میں بی جے پی اور دائیں بازو کے ہندو رہنماؤں کے لیے اہم موضوع رہا ہے۔مجوزہ ترامیم کے بارے میں بات کرتے ہوئے بی جے پی رہنما پریم شْکلا کا کہنا تھا کہ ‘وقف بورڈ کے پاس 50 ممالک کے رقبے سے زیادہ اراضی ہے، اس لیے اس لینڈ جہاد کو روکنے کے لیے حکومت ایک بل لا رہی ہے جو وقف بورڈ کو شفاف بنائے گا۔’تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اس اقدام کی شدید مخالفت کی ہے۔
بھارت میں مودی حکومت کے دور میں مسلم مخالف پالیسیوں اور اقدامات میں تیزی آ گئی ہے، جس سے مسلمانوں کے لیے روزمرہ زندگی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اتر پردیش کی ریاستی حکومت اور اس کے زیر اثر پولیس، آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریے کے تحت مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں مزید بڑھا رہی ہے۔ متھرا کو ستمبر 2021 میں مقدس قرار دیے جانے کے بعد سے مسلم اکثریتی علاقوں میں گوشت کی دکانیں اور ہوٹل بند کر دیے گئے ہیں، جس سے مقامی مسلمانوں کا روزگار شدید متاثر ہوا ہے۔پولیس کو گائے کے تحفظ کے قوانین کے تحت وسیع اختیارات حاصل ہیں، جنہیں مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ جھوٹے مقدمات، ناحق گرفتاریاں اور سماجی امتیاز عام ہوگیا ہے۔ مسلمانوں میں خوف کی فضا اس قدر پھیل چکی ہے کہ وہ گوشت کھانے یا خریدنے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔ متھرا میں مسلم مخالف نفرت انگیز بیانات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ہندو انتہا پسند رہنما مسلمانوں کو ”دیمک” کہہ کر پکارتے ہیں، جب کہ نوجوان مسلمان شدت پسندوں کے حملوں سے بچنے کے لیے ہندو مذہبی رنگوں والے زعفرانی کپڑے پہننے پر مجبور ہیں۔ مسلمانوں کے قبرستانوں کے قریب کچرے کے ڈھیر لگائے جا رہے ہیں اور مساجد کے قریب بیت الخلا تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ بعض علاقوں میں مساجد پر قبضوں، آذان پر پابندی اور گھروں کی مسماری کی قانونی کارروائیاں بھی تیز ہو گئی ہیں، جو آر ایس ایس کے ہندوتوا ایجنڈے کا حصہ قرار دی جا رہی ہیں۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال مسلمانوں کے ایپلی کیشن جس کے بعد بی جے پی رہے ہیں کے خلاف رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

رانا ثنا اور امیر مقام کی برطانوی بزنس مین سے ملاقات، راجہ وسیم نے غلاف کعبہ بطور تحفہ پیش کیا

 ویب ڈیسک : وفاقی وزیر برائے امور آزاد کشمیر و گگلت بلتستان انجینئر امیر مقام اور سینیٹر و مشیر وزیراعظم پاکستان رانا ثناء اللہ نے مشہور برطانوی بزنس مین اور مرکزی رہنما مسلم لیگ ن آزاد کشمیر راجہ وسیم اسلم سے ملاقات کی۔

راجہ وسیم اسلم کے گھر ہونے والی ملاقات میں آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات پر تفصیلی گفتگو کی گئی اور کہا گیا کہ مسلم لیگ ن ہی آزاد کشمیر میں حکومت قائم کرے گی۔

روس کا سب سے جدید اور خطرناک جنگی طیارہ گر کر تباہ

بعدازاں راجہ وسیم اسلم نے اپنے مہمانوں کو غلاف کعبہ بطور تحفہ پیش کیا۔

Ansa Awais Content Writer

متعلقہ مضامین

  • لاہور ڈیفنس فیز 5 میں گھر کی بیسمنٹ سے 53 سالہ شخص کی لاش برآمد
  • رانا ثنا اور امیر مقام کی برطانوی بزنس مین سے ملاقات، راجہ وسیم نے غلاف کعبہ بطور تحفہ پیش کیا
  • ایران کے جزیرہ قشم میں ایک جنگی طیارہ گرنے کی اطلاعات
  • سونا مزید سستا، فی تولہ قیمت میں کتنی بڑی کمی ریکارڈ ہوئی؟
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم