data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ٹیکنالوجی اب صرف نوجوانوں کے لیے نہیں رہی بلکہ بڑھتی عمر کے افراد کی زندگی آسان بنانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

حالیہ طبی مطالعات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ہیلتھ ایپس ذیابیطس جیسے امراض کے انتظام میں معمر افراد کے لیے مؤثر اور قابلِ اعتماد معاون ثابت ہو سکتی ہیں، خاص طور پر جب انہیں بزرگوں کی ضروریات کو سامنے رکھ کر تیار کیا جائے۔

تحقیقات کے مطابق ایسے افراد جنہوں نے یہ ایپس استعمال کیں، ان کے HbA₁c کی سطح میں اوسطاً 0.

4 سے 0.5 فیصد پوائنٹس تک کمی دیکھی گئی۔ یعنی ان ایپس کی مدد سے شوگر کنٹرول بہتر ہوا اور ادویات وقت پر لینے کے ساتھ بلڈ شوگر چیک کرنے کی عادت بھی مضبوط ہوئی۔

یہ ایپس نہ صرف روزمرہ کی سرگرمیوں ،جیسے خوراک، ورزش، بلڈ شوگر لیول اور وزن  کو ریکارڈ کرنے میں مدد دیتی ہیں بلکہ مریض کو اپنی صحت کے رجحانات سمجھنے اور بہتر فیصلے لینے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

ساتھ ہی ان میں موجود تعلیمی مواد ذیابیطس کے اثرات، متوازن غذا، اور صحت مند طرزِ زندگی کے بارے میں مفید معلومات فراہم کرتا ہے۔

ہیلتھ ایپس کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ مریض، ڈاکٹر اور کیئر ٹیکر کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کرتی ہیں۔ بلڈ شوگر ڈیٹا اور سرگرمیوں کی درست معلومات شیئر ہونے سے علاج کا عمل زیادہ مربوط اور انفرادی نوعیت اختیار کر لیتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر بزرگ افراد کو یہ ایپس استعمال کرنے کی تربیت دی جائے تو وہ نہ صرف اپنی صحت پر زیادہ قابو پا سکتے ہیں بلکہ اسپتال کے دورے بھی کم ہو سکتے ہیں۔ یہ واضح اشارہ ہے کہ ڈیجیٹل ہیلتھ کے دور میں بزرگوں کی بہبود کے لیے ٹیکنالوجی ایک قابلِ عمل اور امید افزا حل بن چکی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں