ٹرمپ کا خواب پورا نا ہوا، امن کا نوبیل انعام خاتون کو مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
ٹرمپ کا خواب پورا نا ہوا، امن کا نوبیل انعام خاتون کو مل گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 10 October, 2025 سب نیوز
اوسلو(آئی پی ایس) امن کا نوبیل انعام 2025 ماریہ کورینا مچاڈو کو دے دیا گیا۔
سویڈن کی رائل سوئڈش اکیڈمی آف سائنس کے سربراہ جورجین واٹن فریڈنس نے نوبیل امن انعام 2025 اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امن کا نوبیل انعام وینزویلا کی جمہوریت نواز رہنما ماریہ کورینا مچاڈو کو دیا جاتا ہے۔
واضح رہے امن کا نوبیل انعام (نوبیل پیس پرائز) اس شخص کو دیا جاتا ہے جس نے ملکوں کے درمیان رفاقت بڑھانے، مستقل فوجیں ختم یا کم کرنے، اور امن کے قیام اور فروغ کے لیے سب سے زیادہ یا بہترین کام کیا ہو۔
نوبیل انعام سویڈن کی کاروباری شخصیت الفریڈ نوبیل کی یاد میں دیا جاتا ہے جنھوں نے ڈائنامائٹ (بارود) ایجاد کیا۔ انھوں نے اپنے تقریباً تمام اثاثے یہ انعامات دینے کے لیے ایک فنڈ میں جمع کرا دیے تھے اور سال 1901 میں پہلی مرتبہ نوبیل انعامات تقسیم کیے گئے تھے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرہزاروں طالبان کو عمران خان نے پاکستان لا کر بسایا ،خواجہ آصف بھارت کا کابل میں سفارتخانہ دوبارہ کھولنے کا اعلان راستے بند، ارکان غیر حاضر؛ سینیٹ اجلاس غیر معینہ مدت تک کےلئے ملتوی توشہ خانہ ٹوکیس؛بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کا 342 کا اہم بیان سامنے آگیا امریکا کا غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے 200 اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ فلپائن میں 7.6 شدت کا زلزلہ ، سونامی کی وارننگ جاری مذہبی جماعت کا احتجاج، اسلام آباد پنڈی کے داخلی راستے بلاک، موبائل انٹرنیٹ سروس بند کرنے کا حکم
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: امن کا نوبیل انعام
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔