توشہ خانہ ٹو کیس؛ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے عدالت میں دیے گئے بیانات سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک : توشہ خانہ ٹو کیس کے سلسلے میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کے عدالت میں دیے گئے بیانات سامنے آ گئے۔
بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے دفاع میں عدالت میں دیے گئے 342 کے بیان میں کہا گیا ہے کہ کیا 2018 میں توشہ خانہ پالیسی کے مطابق تحفے سے متعلق صرف رپورٹ نہ کرنے پر ایکشن لیا جاسکتا ؟۔ توشہ خانہ تحائف 7 سے 10 مئی 2021 کے درمیان وصول کیے، اس پر نیب کیس بنا ۔
کیا نئے ججز کسی اور ملک سے لاکر لگائے گئے ہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل
بیان کے مطابق ایف آئی اے کے دائرہ اختیار کے حوالے سے توشہ خانہ رولز مکمل خاموش ہیں۔ اسی بنیاد چوتھے جعلی توشہ خانہ کیس میں مجھے اور میری بیوی کو بری کرنا بنتا ہے۔ نومبر 2022 سے میرے خلاف ایسے من گھڑت کیسز بنائے جا رہے ہیں ۔ انعام اللہ شاہ مرکزی گواہ ہے جس پر اعتماد کچھ وجوہات کی بنا پر نہیں کیا جا سکتا ۔
عمران خان نے بیان میں مزید کہا کہ بددیانتی سے 2 تنخواہیں لینے پر انعام اللہ شاہ کو وزیراعظم آفس سے برطرف کیا ۔ انعام اللہ شاہ جہانگیر ترین کے ٹول کے طور پر کام کر رہا تھا ۔ انعام اللہ شاہ پہلے نیب ریفرنس میں بطور گواہ پیش ہوا تو بلغاری سیٹ کا ذکر تک نہیں کیا۔
سعودی عرب نے پاکستانی ڈاکٹرز اور نرسز کیلئے ملازمتوں کا اعلان کر دیا، جانئے درخواست کیسے دیں
بشریٰ بی بی کا بیان
عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے عدالت میں جمع کرایا گیا 342 کا بیان بھی سامنے آگیا، جس کے مطابق بلغاری جیولری سیٹ رولز کے مطابق ادائیگی کرکے اپنے پاس رکھا ۔ انعام اللہ شاہ کو صہیب عباسی سے کم قیمت لگانے کا کبھی نہیں کہا ۔ انعام اللہ شاہ پہلے پی ٹی آئی سیکریٹریٹ پھر وزیراعظم ہاؤس میں بھی ملازم تھا ، اسے 2 جگہوں سے تنخواہیں لینے پر برطرف کیا ۔
لاہور :طب کے میدان میں بڑا سنگ میل عبور، گھرکی ٹرسٹ ٹیچنگ ہسپتال نے عالمی ریکارڈ قائم کر دیا
بیان میں مزید کہا گیا کہ فرض کریں انعام اللہ نے مجھے قیمت کم لگانے پر 3 ارب 20 کروڑ کا فائدہ دیا ۔ فرض کریں مئی 2021 میں اگر مجھے فائدہ دیا ، پھرجولائی 2021 میں صرف 70 ہزار زائد تنخواہ لینے پر برطرف کیوں کر دیا ؟ ۔ ہمارے خلاف پراسیکیوشن کا کیس ختم ہوتا ہے جس کے حقائق ہی درست نہیں ۔
بشریٰ بی بی نے بیان میں مزید کہا کہ نیب کا دائرہ اختیار نہیں، اٹلی سے لگائی گئی قیمت کو بطور شہادت پیش نہیں کیا جا سکتا ۔چیئرمین نیب نے بغیر اختیار 23 مئی 2024 کو وعدہ معاف گواہ صہیب عباسی کو معافی دی۔ انعام اللہ شاہ کے ذریعے صہیب عباسی کو کم قیمت لگانے کا پیغام دینے کا الزام درست نہیں ۔ ایف آئی اے نے کبھی تحقیقات نہیں کیں ۔
پنجاب میں یونین کونسلز کی نئی حلقہ بندیاں شروع کرنے کا نوٹیفکیشن جاری
بیان میں بشریٰ بی بی نے کہا کہ اپنے رولز کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ من گھڑت رپورٹ جمع کرائی ۔ توشہ خانہ ون کیس میں گواہ انعام اللہ اور صہیب عباسی نے بلغاری سیٹ کا کہیں ذکر نہیں کیا تھا۔ پردہ نشین خاتون ہوں کبھی کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیا ۔ انعام اللہ شاہ کو قیمت کم لگانے سے متعلق کبھی نہیں کہا ۔
بشریٰ بی بی نے کہا کہ ہائیکورٹ نے آرڈر میں لکھا ایف آئی اے کے پاس کیس کرنے کا کوئی اختیار نہیں ۔ ایک ہی جرم پر بار بار سزا نہیں دی جا سکتی، جس طرح توشہ خانہ میں کیا جا رہا ہے ۔ ایف آئی اے کو ممنوع فنڈنگ کیس، سائفرسے کچھ نہیں ملا تو اب یہ کیس بنا دیا ۔
بلاول بھٹو زرداری نےہنگامی اجلاس بلالیا
واضح رہے کہ عدالت نے 29، 29 سوالات پر مشتمل دفعہ 342 کا سوالنامہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو دیا تھا، جس کے بعد دونوں ملزمان نے گزشتہ روز 342 کا بیان عدالت میں جمع کرایا تھا۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: انعام اللہ شاہ صہیب عباسی ایف آئی اے توشہ خانہ عدالت میں کے مطابق نہیں کیا کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘
وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔
ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔
ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلتان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔
عالمی جنگ کے امکانات نہیںعالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا
ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرےپاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟
ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش