Jasarat News:
2026-07-24@06:43:10 GMT

چینی کا بحران: پرانے کردار اور سزاؤں کا قحط

اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

یہ سوال اب قومی لطیفہ بن چکا ہے: ’’اگر چینی کم تھی تو پھر برآمد کیوں کی گئی؟‘‘ اور اس کے ساتھ ایک اور سوال بھی ہے جو ہر بحران کے بعد گونجتا ہے، پھر دفن ہو جاتا ہے: ’’ذمے داروں کو سزا کب دی جائے گی؟‘‘ پاکستان میں چینی کے بحران ایک بیماری کی طرح ہیں جو وقفے وقفے سے سر اٹھاتے ہیں، جیسے بخار جو وقتی دوا سے دب جاتا ہے مگر علاج نہ ہونے کی وجہ سے بار بار لوٹ آتا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہر بار نیا بحران آتا ہے، نئے وعدے ہوتے ہیں، نئی رپورٹیں بنتی ہیں، مگر انجام ہمیشہ ایک سا ہوتا ہے: ’’کوئی مجرم نہیں، کوئی سزا نہیں، کوئی اصلاح نہیں‘‘۔

پاکستان میں چینی کے بحران کی تاریخ کم از کم دو دہائیوں پر محیط ہے، مگر سنجیدہ بحرانوں کی شروعات 2008 ؍ 09 سے ہوئی جب قیمتیں اچانک بلند ہوئیں اور مارکیٹ میں قلت کا شور مچا۔ تب بھی ’’ذخیرہ اندوزوں‘‘ کو ذمے دار قرار دیا گیا، تحقیقات ہوئیں، اور پھر سب خاموشی سے دفن ہو گیا۔ 2016 ؍ 17 میں دوبارہ بحران آیا، اس بار مل مالکان کو چینی برآمد کی اجازت دی گئی، اور نتیجتاً ملک میں قلت پیدا ہوئی۔ بات یہاں نہیں رکی، 2019 اور 2020 میں پاکستان کو ایک بار پھر شدید چینی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ عمران خان حکومت نے چینی کمیشن قائم کیا، جس نے جہانگیر ترین، خسرو بختیار، شریف خاندان، زرداری گروپ اور دیگر کئی بڑے سیاسی و کاروباری ناموں کو ذمے دار قرار دیا۔ رپورٹ شائع ہوئی، نیوز چینلوں نے ہنگامہ برپا کیا، ایف آئی اے نے انکوائریاں شروع کیں، کچھ لوگوں کو بلایا بھی گیا مگر نتیجہ؟ صفر۔

یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ مجرموں کی نشاندہی کی گئی، مگر سزا نہ دی گئی۔ اس سے پہلے اور بعد میں بھی یہی ہوا، اور اب 2025 میں ہم پھر وہی منظر دیکھ رہے ہیں: مارکیٹ میں چینی نایاب، قیمت دو سو روپے فی کلو سے تجاوز کر چکی، حکومت درآمد کا شور مچا رہی ہے، اور چینی مل مالکان یا تو بیرون ملک ہیں یا اپنے سیاسی رابطوں سے محفوظ۔ یعنی تاریخ خود کو دہرا رہی ہے اور ہم بے بس تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان بحرانوں کی جڑ کیا ہے؟ جواب سادہ ہے مگر تلخ: وہی لوگ جو حکومت میں ہوتے ہیں، وہی شوگر ملز کے مالک بھی ہوتے ہیں۔ شریف خاندان کے پاس درجن بھر ملز، زرداری گروپ کی سندھ میں مضبوط موجودگی، ترین گروپ کی JDW سلطنت، اور دیگر کئی سیاسی خاندان چینی کی صنعت پر براہِ راست قابض ہیں۔ یہ سیاستدان جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو نہ صرف برآمد کی اجازت دیتے ہیں بلکہ سبسڈی بھی خود کو دیتے ہیں، اور جب بحران پیدا ہوتا ہے تو وہی چینی درآمد کرواتے ہیں اور اس میں بھی حصہ وصول کرتے ہیں۔ پاکستانی بچوں کے دودھ سے مٹھاس چرا کر اْن معصوم معدوں میں درد اور تکلیف پیدا کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ ہمارے اپنے صدر، وزیر ِاعظم، حکومت میں بیٹھے وزراء اور اپوزیشن کی نشستوں پر براجمان سیاستدان ہیں۔ ہر دوسرے سال چینی کا بحران پیدا کرکے، عوام کی جیب سے اربوں روپے چوری کرنے والے درحقیقت ہماری قوم کے وہی لاڈلے سیاستدان اور حکمران ہیں جن کے لیے عوام ’’زندہ باد‘‘ کے نعرے لگاتے ہیں، اْن کے دفاع میں اپنے رشتے داروں سے جھگڑ پڑتے ہیں، سیاسی وفاداری کے نام پر اپنی غیرت اور دانش بیچ دیتی ہے، اور اس وفاداری کا انعام یہی ملتا ہے: چینی کے بحران، قیمتوں میں اضافہ، اور بجلی کی قلت، پانی کی قلت، یعنی قلت ہی قلت… اور وہی، جو آپ سمجھ رہے ہیں۔

پچھلے پندرہ سال میں کم از کم پانچ بڑے چینی بحران آ چکے ہیں۔ ان میں اربوں روپے کی کرپشن رپورٹ ہوئی، مجرموں کی نشاندہی ہوئی، عدالتوں میں مقدمات گئے، مگر نتیجہ ہر بار ایک سا رہا: ’’عدم ثبوت‘‘، ’’سیاسی مداخلت‘‘، ’’تکنیکی بنیادوں پر بریت‘‘ یا ’’رپورٹ غیر مؤثر قرار‘‘۔ عوام حیران، صحافت بے بس، اور مافیا مزید طاقتور ہو گئی۔ اب سوال صرف یہ نہیں کہ چینی کیوں مہنگی ہے یا قلت کیوں پیدا ہوئی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کب سیکھیں گے؟ کب ہم اْنہیں ووٹ دینا بند کریں گے جو ہمارے ہی خون سے کاروبار کرتے ہیں؟ کب ہم اْس نظام کو چیلنج کریں گے جو ہر بار ایک ہی زخم دیتا ہے اور ہمیں نیا مرہم بیچتا ہے؟ غافل کی آنکھ اس وقت کھلتی ہے جب وہ بند ہونے کے قریب ہوتی ہے۔ اور ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہماری آنکھ بھی تب کھلے جب دیکھنے کو کچھ باقی نہ رہے۔ اور آخر میں، چینی کی قلت اور پھر درامد سے اربوں روپے لوٹنے والی یہی مافیا چند لاکھ روپے خرچ کر کے ایسے لوگ مارکیٹ میں چھوڑ دیتی ہے جو ہر الیکشن میں اپنے ظالم مالکان کا ساتھ دیتے ہیں۔ یہی خصلت کتے میں بھی پائی جاتی ہے۔ وہ ہڈی ڈالنے والے مالک کا تو وفادار ہوتا ہے، مگر اپنی ہی نسل کا دشمن۔

عوام کو اب ہوشیار ہو جانا چاہیے۔ ایسے دشمنوں، ایسے وفادار کتوں، اور ان کے آقاؤں سے بچنا اب لازم ہے، ورنہ چینی کے بحرانوں سے بچتے بچتے ایک دن شاید روٹی کے بھی محتاج ہو جائیں گے۔ آج کا دور شعور کی بیداری کا دور ہے۔ حکمران غور کریں اور دیکھیں کہ شعور کی بیداری کی لہر سری لنکا، نیپال اور بنگلا دیش سے ہوتی ہوئی آزاد کشمیر میں داخل ہو چکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ لہر پنجاب اور باقی صوبوں میں کب داخل ہوتی ہے۔ شاید قدرت ہمارے حکمرانوں کو سنبھلنے کا ایک آخری موقع دے رہی ہے، ورنہ یہ عوامی بیداری کی موج آزاد کشمیر کی طرح جب پنجاب اور سندھ کی گلیوں میں گونجے گی تو ایوانوں کی دیواریں بھی لرز اٹھیں گی۔

عبید مغل.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چینی کے بحران ہوتے ہیں یہ ہے کہ

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار