ریاست مخالف مواد: فلک جاوید کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
لاہور:
ضلعی عدالت نے پی ٹی آئی کی سوشل ایکٹوسٹ فلک جاوید کو دو مقدمات میں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے ) کی ریمانڈ کی درخواست پر سماعت کی۔
این سی سی آئی اے نے ملزمہ کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد عدالت میں پیش کیا، نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی نے فلک جاوید پر دو مقدمات درج کرائے ہوئے ہیں۔
پی ٹی آئی ایکٹویسٹ فلک جاوید پر ریاست مخالف ٹویٹ اور (ن) لیگ کی صوبائی وزیر سے متعلق نازیبا مواد اپ لوڈ کرنے کے الزامات ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فلک جاوید
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔