ڈاکٹر یاسمین راشد 9 مئی مقدمے میں بعد از گرفتاری ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے ہفتہ کے روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پنجاب کی صدر ڈاکٹر یاسمین راشد کو مئی 9، 2023 کے احتجاج کے دوران مغل پورہ کے قریب پولیس گاڑیاں جلانے کے مقدمے میں بعد از گرفتاری ضمانت دے دی۔
اے ٹی سی کے جج منظور علی گِل نے کوٹ لکھپت جیل میں ہونے والی سماعت کے دوران ضمانت کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔
یہ بھی پڑھیے: ڈاکٹر یاسمین راشد نے 9 مئی کے 3 مقدمات میں سزاؤں کیخلاف اپیل دائرکردی
درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والے بیرسٹر تیمور ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یکسانیت کے اصول کے تحت دیگر ملزمان، بشمول پی ٹی آئی کے بانی عمران خان، سابق سینیٹر اعجاز چوہدری اور سابق گورنر عمر سرفراز چیمہ، کو اسی نوعیت کے مقدمات میں ضمانت دی جاچکی ہے، لہٰذا ڈاکٹر یاسمین راشد کو بھی ضمانت ملنی چاہیے۔
عدالت نے 1 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ڈاکٹر یاسمین راشد کی ضمانت منظور کرلی۔
تاہم عدالت نے پی ٹی آئی رہنما کی دیگر 3 مقدمات میں دائر ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 25 نومبر تک ملتوی کردی۔
یہ بھی پڑھیے: شاہ محمود قریشی 9 مئی کے مزید 2 مقدمات سے بری، یاسمین راشد اور اعجاز چوہدری کو 10،10 برس قید کی سزا
بیرسٹر تیمور ملک کا کہنا تھا کہ یکساں قانونی اصول کے تحت ان مقدمات میں بھی ضمانت دی جانی چاہیے، اور اگر بعد میں ہائی کورٹ ان کی سزا معطلی کی درخواستیں منظور کرلیتی ہے تو وہ اپیلوں کے فیصلے تک رہا ہوسکتی ہیں۔
پی ٹی آئی پنجاب صدر کو مئی 9 کے چار دیگر مقدمات میں بھی سزا ہوچکی ہے، جن میں شادمان تھانے پر حملے کا کیس بھی شامل ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر یاسمین راشد مقدمات میں پی ٹی آئی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔