نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے خلاف درخواست کی سماعت،پشاور ہائی کورٹ نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
پشاور(ویب ڈیسک) پشاور ہائی کورٹ میں جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران وکیل درخواست گزار بیرسٹر یاسین رضا نے مؤقف اپنایا کہ عدالت اس کیس کا فیصلہ میرٹ پر کرے۔
جسٹس سید ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ یہ درخواست گزار کی مرضی ہے کہ وہ درخواست واپس لینا چاہتے ہیں یا عدالت میرٹ پر فیصلہ کرے۔ وکیل نے مؤقف دیا کہ عدالت میرٹ پر فیصلہ سنائے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔
.ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
لیگل ایڈ ایکٹ 2019 پر عملدرآمد نہ ہونے کیخلاف درخواست پر حکومت سے جواب طلب
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) عدالت نے لیگل ایڈ ایکٹ 2019 پر عملدرآمد نہ ہونے کیخلاف درخواست پر حکومت سے جواب طلب کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پشاور ہائیکورٹ میں لیگل ایڈ ایکٹ 2019 پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس اعجاز انور اور جسٹس محمد نعیم انور نے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نعمان محب نے موقف اپنایا کہ خیبرپختونخوا میں سکت نہ رکھنے والے افراد کے لیے لیگل ایڈ ایجنسی قائم کی جانی تھی تاہم چھ سال گزرنے کے باوجود تاحال ایکٹ پر کوئی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے افواہیں بے بنیاد ہیں: جیل حکام
وکیل کے مطابق اس قانون کے تحت ایسے قیدی اور گھریلو تنازعات کا سامنا کرنے والی خواتین کو مفت قانونی معاونت فراہم کی جانی تھی جن کے پاس وکیل کرنے کی استطاعت نہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ کن کیسز میں حکومت مفت وکیل فراہم کرنے کی پابند ہے؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ قیدیوں اور گھریلو تنازعات سے متعلق خواتین کے کیسز میں حکومت وکلاء کی فیس خود ادا کرنے کی پابند ہے۔
بعدازاں عدالت نے چیف سیکرٹری اور سیکرٹری قانون خیبرپختونخوا سے تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
ٹک ٹاکر ایمان پر تشدد اور بال کاٹنے کی وجہ سامنے آ گئی
مزید :