غزہ میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 25 فلسطینی شہید، 35 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
وزارت صحت کے مطابق اس طرح اسرائیلی حملوں میں 67 ہزار 938 فلسطینی شہید ہوئے، جبکہ 7 اکتوبر 2023ء کے بعد سے ایک لاکھ 70 ہزار 169 فلسطینی زخمی ہوچکے۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ کی پٹی میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 25 فلسطینی شہید اور 35 زخمی ہوئے۔ عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ اسپتالوں میں لائی گئیں 16 فلسطینیوں کی لاشیں ملبے سے ملی ہیں۔ وزارت صحت کے مطابق ایک فلسطینی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوا۔ وزارت صحت کے مطابق اس طرح اسرائیلی حملوں میں 67 ہزار 938 فلسطینی شہید ہوئے، جبکہ 7 اکتوبر 2023ء کے بعد سے ایک لاکھ 70 ہزار 169 فلسطینی زخمی ہوچکے۔ وزارت صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی فوج نے 45 نامعلوم فلسطینیوں کی لاشیں حوالے کیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وزارت صحت کے مطابق فلسطینی شہید
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک