Islam Times:
2025-11-30@00:47:26 GMT

غزہ میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 25 فلسطینی شہید، 35 زخمی

اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT

غزہ میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 25 فلسطینی شہید، 35 زخمی

وزارت صحت کے مطابق اس طرح اسرائیلی حملوں میں 67 ہزار 938 فلسطینی شہید ہوئے، جبکہ 7 اکتوبر 2023ء کے بعد سے ایک لاکھ 70 ہزار 169 فلسطینی زخمی ہوچکے۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ کی پٹی میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 25 فلسطینی شہید اور 35 زخمی ہوئے۔ عرب میڈیا کے مطابق فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ اسپتالوں میں لائی گئیں 16 فلسطینیوں کی لاشیں ملبے سے ملی ہیں۔ وزارت صحت کے مطابق ایک فلسطینی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوا۔ وزارت صحت کے مطابق اس طرح اسرائیلی حملوں میں 67 ہزار 938 فلسطینی شہید ہوئے، جبکہ 7 اکتوبر 2023ء کے بعد سے ایک لاکھ 70 ہزار 169 فلسطینی زخمی ہوچکے۔ وزارت صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی فوج نے 45 نامعلوم فلسطینیوں کی لاشیں حوالے کیں۔

.

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: وزارت صحت کے مطابق فلسطینی شہید

پڑھیں:

فلسطینی نژاد امریکی بچہ 9 ماہ کے بعد اسرائیلی قید سے آزاد

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مقبوضہ بیت المقدس: فلسطینی نژاد امریکی بچے محمد ابراہیم کو 9 ماہ کے بعد اسرائیلی قید سے آزادی مل گئی۔

خبر رساں اداروں کے مطابق صرف 15 برس کی عمر میں گرفتار ہونے والا یہ بچہ اپنی 16 ویں سالگرہ بھی اسرائیلی کوٹھڑی کی تاریکی میں قید تنہائی کے سائے میں گزارنے پر مجبور ہوا تھا۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق محمد ابراہیم کو رواں برس فروری میں اس وقت اٹھا لیا گیا جب وہ اپنے والدین کے ہمراہ امریکا سے اپنے آبائی قصبے المزعرہ الشرقیہ آیا تھا۔ خاندان کے مطابق اسرائیلی اہلکاروں نے گھر پر چھاپے کے دوران نہ صرف اسے بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر والدین کے سامنے زبردستی گرفتار کر کے لے گئے۔

بعد ازاں دورانِ حراست اسے ذہنی اور جسمانی طور پر بدترین اذیتیں دی گئیں۔ والدین نے بتایا کہ مسلسل ظلم کے باعث اس کا وزن کم ہوتا گیا، وہ نقاہت اور کمزوری کا شکار ہوگیا اور جلد کی ایک شدید بیماری میں مبتلا ہوگیا جس نے اسے بالکل نڈھال کر دیا۔

اس تمام عرصے میں خاندان کو نہ تو ملاقات کی اجازت دی گئی اور نہ ہی اپنے بچے سے براہِ راست کوئی رابطہ کرنے دیا گیا۔ اہل خانہ صرف امریکی حکام کے ذریعے ہی یہ جان پاتے تھے کہ وہ زندہ ہے یا نہیں اور اس کی حالت کیسی ہے۔ امریکی اداروں کی رپورٹس کے مطابق محمد ابراہیم کی حالت روز بروز بگڑتی گئی، جس کے بعد معاملہ بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہونا شروع ہوا۔

اسرائیلی حکام نے گرفتاری کے بعد یہ کمزور مؤقف اختیار کرنے کی کوشش کی کہ محمد ابراہیم نے یہودی آبادکاروں پر پتھر پھینکے تھے، تاہم نہ تو کوئی زخمی سامنے آیا اور نہ اسرائیلی پولیس ایک بھی ثبوت فراہم کر سکی۔ خود محمد ابراہیم نے بھی ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ سب جھوٹ پر مبنی کہانی ہے جس کا مقصد اسے نشانہ بنانا ہے۔

بعد ازاں امریکا میں شہری حقوق کی تنظیموں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور متعدد قانون سازوں نے مل کر اس معصوم لڑکے کی رہائی کے لیے مہم تیز کی۔ گزشتہ ماہ 27 امریکی ارکانِ کانگریس نے ٹرمپ انتظامیہ کو خط لکھ کر اس معاملے میں فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیلی دہشت گردی برقرار: وحشیانہ حملوں میں 2 بچوں سمیت مزید 13 فلسطینی شہید
  • اقوام متحدہ: 2 سال میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کی کارروائیوں میں ہزار سے زائد فلسطینی شہید
  • پنجاب: 48 گھنٹوں میں 7 کروڑ روپے سے زائد کے ٹریفک چالان
  • آزاد فلسطینی ریاست کا قیام  اور اسرائیلی جرائم پر جوابدہی ضروری ہے، وزیراعظم
  • اسرائیل کا غزہ سمیت تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے مکمل انخلا ضروری ہے: پاکستان
  • اسرائیلی محاصرے میں رفح کی سرنگوں میں پھنسے 30 فلسطینی جان کی بازی ہار گئے
  • اسرائیلی فوج نے سفاکیت کی انتہا کردی؛ 2نہتے فلسطینیوں کو بھون ڈالا، وڈیو وائرل
  • فوجی سفاکیت کی انتہا؛ 2نہتے فلسطینیوں کو بھون ڈالا؛ ویڈیو وائرل
  • شامی قصبے بیت جن پر اسرائیلی حملے میں 9 افراد جاں بحق
  • فلسطینی نژاد امریکی بچہ 9 ماہ کے بعد اسرائیلی قید سے آزاد