آسام میں باغی سرگرم، ایک سال میں 35 بھارتی فوجی ہلاک، بی جے پی کی حکومت کے لیے نیا بحران
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام اور ملحقہ علاقوں میں عسکریت پسندی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں مختلف علیحدگی پسند گروپوں کے حملوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران 35 بھارتی فوجی اہلکار ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ صورتِ حال بی جے پی حکومت کے لیے آئندہ سال ہونے والے 2026 کے ریاستی انتخابات سے قبل ایک بڑا سیکیورٹی چیلنج بن چکی ہے۔
کشمیری میڈیا سروس (KMS) کے مطابق 16 اکتوبر 2025 کو ناگا عسکریت پسندوں نے اروناچل پردیش کے علاقے چانگلانگ میں آسام رائفلز کے بیس کیمپ پر حملہ کیا، جس میں کئی اہلکار زخمی ہوئے۔ اس سے قبل 19 ستمبر 2025 کو منی پور کے بشنوپور ضلع میں پیپلز لبریشن آرمی (PLA) نے آسام رائفلز کے قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 5 فوجی ہلاک اور 10 زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق، جولائی 2025 میں آسام پولیس نے علیحدگی پسند تنظیموں — الفا (ULFA-I) اور این ایس سی این-کے وائی اے (NSCN-KYA) — سے تعلق کے شبے میں 22 افراد کو گرفتار کیا تھا۔ تاہم، سرحدی علاقوں میں اب بھی یہ گروپس مسلح کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حالات پر قابو پانے میں ناکامی کے باعث ریاستی حکومت نے افسپا (AFSPA) — یعنی مسلح افواج کو خصوصی اختیارات دینے والا قانون — تنسیوکیا، چارائی دیو اور سیواساگر اضلاع میں مزید چھ ماہ کے لیے بڑھا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، این ایس سی این-کے وائی اے اپنی آپریشنل صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے اور بھارت کے شمال مشرقی سیکیورٹی ڈھانچے کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ علیحدگی پسند دھڑے اب بھی ”گریٹر ناگالینڈ“، علیحدہ پرچم اور آئینی خودمختاری کے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندی کی یہ نئی لہر بی جے پی کے امن، استحکام اور ترقی کے انتخابی بیانیے کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب آسام میں بے روزگاری، نسلی کشیدگی اور سرحدی عدم تحفظ پر عوامی غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.(جاری ہے)
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے. ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا. شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے.