افغان سرحد کے پاس خود کش حملہ، سات پاکستانی فوجی ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
افغان سرحد کے پاس ملٹری کیمپ پر عسکریت پسندوں کا خود کش حملہ، سات پاکستانی فوجی ہلاک شمالی وزیرستان میں افغان سرحد کے پاس ملٹری کیمپ پر خود کش حملہ، سات پاکستانی فوجی ہلاک
پاکستان اور افغانستان کے درمیان اڑتالیس گھنٹے کی محدود فائر بندی کی مدت پوری ہونے سے پہلے دونوں ممالک کی مشترکہ سرحد کے قریب جمعہ سترہ اکتوبر کے روز کیے گئے ایک خود کش بم حملے میں سات پاکستانی فوجی مارے گئے۔
صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پاکستانی سکیورٹی حکام نے بتایا کہ یہ خود کش بم حملہ ایسے وقت پر کیا گیا، جب ماضی میں ایک دوسرے کے حلیف رہنے والے ان دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین حالیہ ہلاکت خیز جھڑپوں کے بعد بدھ کے دن اعلان کردہ 48 گھنٹے کی محدود فائر بندی کی مدت ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔
(جاری ہے)
افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر فائربندی برقرار، اسپن بولدک میں حالات معمول پر آنے لگے
حالیہ جھڑپوں کے دوران اطراف کی فورسز کے مابین شدید لڑائی ہوئی تھی، جس میں مجموعی طور پر بیسیوں افراد مارے گئے تھے۔
اس کے علاوہ پاکستان نے سرحد پار افغان ریاستی علاقے میں فضائی حملے بھی کیے تھے۔اسلام آباد اور کابل کے درمیان بدھ کو طے پانے والی محدود فائر بندی کی 48 گھنٹے کی مدت پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق جمعہ 17 اکتوبر کی شام چھ بجے اور عالمی وقت کے مطابق بعد دوپہر ایک بجے ختم ہو رہی ہے۔
نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق پاکستان کے پانچ مختلف سکیورٹی اہلکاروں نے تصدیق کی کہ عسکریت پسندوں کی طرف سے جمعے کے روز ضلع شمالی وزیرستان میں پاکستان کی فوج کے ایک کیمپ پر حملہ کیا گیا، جس میں سات فوجی ہلاک اور 13 دیگر زخمی بھی ہو گئے۔
ڈیورنڈ لائن: پاک افغان تعلقات میں تناؤ سے عبارت مشترکہ سرحد
بتایا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں میں سے ایک نے اپنی بارودی مواد سے لدی ہوئی گاڑی شمالی وزیرستان میں اس قلعے کی دیوار سے ٹکرا دی، جسے پاکستانی فوج کے ایک کیمپ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔
یہ خود کش حملہ سات فوجیوں کی ہلاکت کا باعث بنا۔ اس کے علاوہ دو دیگر عسکریت پسندوں نے اس کیمپ میں داخل ہونے کی بھی کوشش کی، تاہم انہیں سکیورٹی اہلکاروں نے موقع پر ہی گولی مار دی۔
روئٹرز کے مطابق اس حملے کے بارے میں پاکستانی فوج سے تبصرے کے لیے کی گئی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہ دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سات پاکستانی فوجی عسکریت پسندوں خود کش حملہ فوجی ہلاک کے مطابق سرحد کے
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
قابض افغان طالبان رجیم کیخلاف افغانستان کے مختلف صوبوں میں آزادی پسند تحریکیں زور پکڑ گئیں.
بدخشان میں چندماہ میں دوسرےضلعی گورنرکی ہٹ دھرمی پرمبنی برطرفی نےطالبان کےاندرونی خلفشارکوآشکارکردیا۔
افغان میڈیا کے مطابق طالبان رجیم کیخلاف نئے مسلح گروہ سپاہیان میہن نے بدخشان کے ضلع یفتلی سفلی پرقبضہ کرکےاپنی موجودگی کا باضابطہ اعلان کر دیا
یہ گروہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنےوالےافراد پرمشتمل ہے جن میں سابق سیکیورٹی اہلکاراورمقامی باشندےشامل ہیں۔
ساؤتھ ایشیا ٹیررزم پورٹل کی رپورٹ کے مطابق طالبان اور جمعہ خان فاتح کے درمیان اختلافات ختم نہیں ہوئے،بدخشان میں ان کےحامیوں اورطالبان قیادت کےدرمیان کشیدگی برقرارہے۔
بدخشان میں اندرونی کشیدگی بھی عروج پر،ضلعی گورنرقاری مطیع الرحمان کوتقرری کےایک ہفتےبعدہی عہدے سےہٹا دیا گیا، طالبان مخالف گروہوں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اورافغانستان فریڈم فرنٹ بھی بدخشاں سمیت افغانستان کے کئی صوبوں میں سرگرم ہیں۔
افغان مزاحمتی تنظیم نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نےایکس اکاونٹ پرمزاحمتی فورسزکی نئی ویڈیواپ لوڈکردی۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کےایکس پراپ لوڈ ویڈیومیں طالبان مخالف فورسزکواہم علاقےمیں گشت کرتےہوئےدیکھاجاسکتا ہے۔