میرعلی میں خودکش حملہ، خواتین اور بچوں سمیت 5 شہری جاں بحق، 4 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں فتنۂ خوارج کے دہشتگردوں نے 17 اکتوبر کو ایک خادی چیک پوسٹ کے قریب بزدلانہ خودکش حملے کی کوشش کی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ خوارج گروہ حافظ گل بہادر سے منسلک دہشتگردوں نے کیا۔
یہ بھی پڑھیں:’افغان کرکٹرز کی ہلاکت کا ڈراما‘ بے نقاب، ماہرین نے اہم سوالات اٹھا دیے
ذرائع کے مطابق خودکش حملے کے نتیجے میں 3 خواتین اور 2 بچے جھلس کر جاں بحق ہوگئے، جب کہ سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ خوارجی گل بہادر گروہ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ یہ گروہ افغان طالبان کی سرپرستی میں افغانستان میں روپوش ہے اور پاکستان میں شہری آبادیوں کو نشانہ بنا کر اپنی ناکامیوں کا بدلہ لینے کی کوشش کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فتنۂ خوارج کے دہشتگرد، جنہیں سیکیورٹی فورسز نے حالیہ کارروائیوں میں سینکڑوں غیرملکی جنگجوؤں کی ہلاکت کے بعد سخت نقصان پہنچایا، اب خواتین اور بچوں جیسے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
سیکیورٹی فورسز نے عزم ظاہر کیا ہے کہ دہشتگردی کے ناسور کو مکمل طور پر جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا اور پاکستان کے امن و استحکام پر کسی بھی حملے کا فی الفور اور سخت جواب دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک آرمی دہشتگرد فتنہ الخوارج میر علی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک ا رمی دہشتگرد فتنہ الخوارج میر علی
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔