عمران خان کی سابق خوشدامن لیڈی انیبل گولڈ اسمتھ چل بسیں
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن:۔ سابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ کی والدہ اور برطانوی سماجی شخصیت لیڈی انیبل گولڈ اسمتھ 91 سال کی عمر میں چل بسیں۔
آنجہانی لیڈی انیبل 11جون 1934کو لندن میں پیدا ہوئیں۔ وہ برطانوی اشرافیہ کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، ان کی پہلی شادی مارک برلی سے ہوئی، جنہوں نے لندن میں مشہور نائٹ کلب انیبلز (Annabels) قائم کیا، جس کا نام انہوں نے اپنی اہلیہ کے نام پر رکھا۔ بعد ازاں انہوں نے معروف بزنس مین سر جیمز گولڈ سمتھ سے شادی کی۔
لیڈی انیبل کے تین بچے ہیں، جمائمہ، زیک، اور بین گولڈ اسمتھ، ان کی بیٹی جمائمہ گولڈ اسمتھ نے 1995ءمیں عمران خان سے شادی کی تھی، یوں لیڈی انیبل کچھ عرصہ کے لیے عمران خان کی ساس رہیں۔ لیڈی انیبل لندن کی سماجی اور ثقافتی تقریبات میں نمایاں مقام رکھتی تھیں۔ وہ کئی دہائیوں تک برطانوی اعلیٰ طبقے کی نمایاں چہروں میں شمار ہوتی رہیں اور ان کا نائٹ کلب انیبلز عالمی شہرت رکھتا تھا۔
انہوں نے اپنی زندگی پر ایک کتاب Annabel: An Unconventional Life بھی تحریر کی جس میں انہوں نے اپنی غیر معمولی زندگی کے تجربات اور برطانوی سماجی دنیا کے رنگ بیان کیے۔ ان کے خاندان نے ان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
برطانوی میڈیا نے انہیں “ایک عہد کی علامت” قرار دیتے ہوئے خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ پاکستان میں بھی ان کے انتقال کی خبر کو توجہ ملی ہے، کیونکہ ان کا تعلق براہِ راست عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ گولڈ سمتھ کے ذریعے پاکستان سے جڑا رہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عمران خان کی لیڈی انیبل گولڈ اسمتھ انہوں نے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔