معمر خاتون کی حاضر دماغی، لفٹ میں پھنسے پالتو کتے کی جان بچا لی — ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
چین، گانسو — سوشل میڈیا پر ایک معمر چینی خاتون کی بہادری اور حاضر دماغی کی ویڈیو وائرل ہو گئی ہے، جس میں وہ اپنے پالتو کتے کی جان بچاتی دکھائی دیتی ہیں۔
واقعہ صوبہ گانسو کے ایک رہائشی اپارٹمنٹ میں پیش آیا، جہاں خاتون اپنے پالتو کتے کے ساتھ لفٹ میں داخل ہوئیں۔ جیسے ہی لفٹ کا دروازہ بند ہوا، کتے کا پٹہ باہر دروازے میں پھنس گیا، اور لفٹ کے چلتے ہی وہ ہوا میں معلق ہو گیا۔ منظر نہایت خطرناک تھا — ایک لمحے کی غفلت کتے کی جان لے سکتی تھی۔
لیکن خاتون نے گھبراہٹ کے بجائے فوری ردِعمل دیا۔ وہ فوراً کتے کے گلے سے پٹے کو کھولنے کی کوشش کرنے لگیں اور ایک منٹ سے بھی کم وقت میں اسے بچانے میں کامیاب ہو گئیں۔ سوشل میڈیا صارفین نے خاتون کے حوصلے اور محبت کو سراہتے ہوئے انہیں “ہیرو” قرار دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔