data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی نے ایک بار پھر سیلاب متاثرین کی مدد کیلیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے استفادہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو تحفظات دور کرنے کیلیے ایک ماہ کی مہلت دے دی۔

ذرائع کے مطابق کراچی میں پاکستان پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کونسل کا اجلاس ہوا جس میں چاروں صوبوں سے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں حکومت کے ساتھ اتحاد، پنجاب میں سیلاب متاثرین کی بحالی، افغانستان کی دراندازی سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ بلاول بھٹو نے شرکا کو وزیراعظم سے ہونے والی ملاقات پر بریفنگ بھی دی جس پر سب نے اطمینان کا اظہار کیا۔

اس موقع پر شرجیل میمن اور ندیم افضل چن کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنماء سینٹر شیریں رحمان نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ نے طے کیا ہے کہ ن لیگ کی وفاقی حکومت ایک ماہ میں پیپلز پارٹی کے تحفظات کو دور کرے ، اگر ہمارے مطالبات اور تحفظات حل نہیں ہوتے تو اس مدت کے بعد پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس دوبارہ منعقد ہوگا اور اس میں اہم سیاسی فیصلے کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی سیاسی صورتحال کی بہتری کے لیے اہم سیاسی کردار ادا کرے گی جبکہ پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ میں شامل نہیں ہورہی ہے۔

شیری رحمان نے کہا کہ وفاقی حکومت سیلاب متاثرین کی فوری بحالی کے اقدام کرے ، گندم کی امدادی قیمت مقرر کی جائے۔ سیلاب متاثرین کی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے فوری مدد کی جائے۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سیلاب متاثرین کی پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا