اسلام آباد:

ملائیشیا کے وزیراعظم انوار ابراہیم نے وزیراعظم شہباز شریف کو ٹیلی فونک رابطے میں پاک-افغان کشیدگی سے پیدا صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تناؤ کم کرنے اور خطے میں امن و استحکام بحال کرنے کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کی پیش کش کردی۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو ملائیشیا کے وزیراعظم داتو سیری انور ابراہیم نے ٹیلی فون کیا اور اس موقع پر وزیراعظم نے کوالالمپور کے حالیہ دورے کے دوران شان دار مہمان نوازی کے لیے ملائشیا کی قیادت اور لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔

بیان کے مطابق ٹیلی فونک رابطے میں دونوں رہنماؤں نے بھی علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا، وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیر اعظم انور ابراہیم کو شرم الشیخ میں غزہ امن معاہدے کی دستخطی تقریب میں شرکت کے بارے میں آگاہ کیا۔ 

دونوں رہنماؤں کا فلسطینی عوام کی تکلیف فوری طور پر ختم کرنے، غزہ تک بلا روک ٹوک انسانی ہمدردی کی رسائی یقینی بنانے اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کی راہ ہموار کرنے پر اتفاق کیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے ملائیشیا کے ہم منصب کو پاک-افغان کی سرحد کے ساتھ سیکیورٹی کی صورت حال سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام کی تلاش میں ہے لیکن اسے افغان سرزمین سے پیدا ہونے والی سرحد پار دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان حکام کو افغان سرزمین سے کام کرنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس ختم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے جو پاکستان کے اندر حملوں کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے دوحہ میں بات چیت میں آسانی پیدا کرنے کے لیے افغان حکام کی درخواست پر عارضی طور پر جنگ بندی پر اتفاق کیا اور فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سمیت تمام دہشت گرد اداروں کے خلاف ٹھوس کارروائی کی اہمیت پر زور دیا۔

ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے اس صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا اور تناؤ کم کرنے اور خطے میں امن و استحکام بحال کرنے میں تعمیری کردار ادا کرنے کی پیش کش کی۔

 دونوں رہنماؤں نے آپس میں رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ملائیشیا کے وزیر اعظم شہباز شریف کیا اور کے لیے

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں

لاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال

اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ