قطر کے وزیرِ دفاع کے معنی خیز بیان نے واضح کیا کہ اب نرمی ختم ہو چکی ہے، پاکستان نے جمعہ کے روز ایک بار پھر افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ حملے شمالی وزیرستان میں ایک دہشتگرد بم و گولا باری کے حملے کے فوراً بعد کیے گئے، جس کا نشانہ ایک فوجی تنصیب تھی، اور یہ واقعہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان دو روزہ جنگ بندی میں توسیع کے چند گھنٹے بعد پیش آیا تھا۔

انگور اڈہ کے علاقے اور افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے ارگون اور برمل اضلاع سے واقعات کی اطلاع ملی، جہاں سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کالعدم حافظ گل بہادر گروپ کے ٹھکانوں پر درست نشانہ لگا کر کارروائیاں کی گئیں، جن میں درجنوں دہشتگرد مارے گئے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے آریانا نیوز سے گفتگو میں کہا کہ اگر کوئی افغانستان پر حملہ کرے گا تو ہماری افواج جواب دینے کے لیے تیار ہیں، تاہم پاکستانی سیکیورٹی ذرائع نے نشاندہی کی کہ افغان حکومت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی معاہدہ دہشت گرد گروہوں اور ان کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائیوں پر لاگو نہیں ہوتا۔

پاکستانی فوج کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، مگر حافظ گل بہادر گروپ سے منسلک دہشت گردوں نے میرعلی کے علاقے میں کھدی قلعے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی، جہاں ایک خودکش حملہ آور نے دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی فوجی کیمپ کے مرکزی دروازے سے ٹکرا دی تھی۔
اگرچہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے نقصان کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا، لیکن سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ ناکام بنا دیا گیا، اور تمام حملہ آور مارے گئے۔

یہ حملہ جمعہ کی صبح شروع ہوا، مقامی ذرائع نے زوردار دھماکے اور اس کے بعد شدید فائرنگ کی اطلاع دی، کیوں کہ دہشت گرد کیمپ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، ذرائع کے مطابق تمام 4 حملہ آور ہلاک کر دیے گئے۔

بھاری قیمت چکانی ہوگی
’ایکس‘ پر جاری ایک معنی خیز بیان میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ کابل کے ساتھ تعلقات اب ماضی جیسے نہیں رہیں گے، اب احتجاجی مراسلے یا امن کی اپیلیں نہیں ہوں گی، کوئی وفد کابل نہیں جائے گا، جہاں کہیں بھی دہشت گردی کا منبع ہوگا، اسے بھاری قیمت چکانی ہوگی۔

خواجہ آصف نے افغانستان پر الزام لگایا کہ وہ بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہا ہے، اور کہا کہ اسلام آباد اب ماضی جیسے تعلقات رکھنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

طالبان کے 2021سے اقتدار میں آنے کےبعد سے لیکر پاکستان میں امن اور افغانستان سے دراندازی کے لئے ھماری حکومت کی کوششوں کا تفصیلی جائزہ۔۔۔

1-وزیر خاجہ کے کابل وزٹ 4
2-وزیردفاع اور ISI وزٹ2
3-نمائندہ خصوصی 5وزٹ
4-سیکرٹری 5وزٹ
5- نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر 1وزٹ
6-جوائنٹ کوآرڈینیشن…

— Khawaja M.

Asif (@KhawajaMAsif) October 17, 2025

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی سرزمین پر موجود تمام افغانوں کو اپنے وطن واپس جانا ہوگا، اب ان کی اپنی حکومت (یا خلافت) کابل میں موجود ہے، اسلامی انقلاب کو 5 سال ہو چکے ہیں، اب انہیں پاکستان کے ساتھ ہمسایوں کی طرح رہنا ہوگا۔
اپنے بیان میں وزیرِ دفاع نے پاکستانی وفود کے کابل کے دوروں کی تفصیلات اور افغانستان سے سرگرم گروہوں کے حملوں اور ہلاکتوں کے اعداد و شمار بھی فراہم کیے۔

طالبان کے 2021 میں اقتدار میں آنے کے بعد، پاکستانی وزرائے خارجہ نے 4 بار کابل کا دورہ کیا، وزرائے دفاع اور آئی ایس آئی کے سربراہان نے دو بار، خصوصی نمائندے اور خارجہ سیکریٹری 5، 5 بار، قومی سلامتی مشیر نے ایک بار جب کہ جوائنٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے 8 اجلاس افغان دارالحکومت میں ہوئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 225 بار سرحدی فلیگ میٹنگز ہوئیں، 836 احتجاجی مراسلے اور 13 سخت نوٹس (ڈی مارش) دیے گئے۔

2021 سے اب تک 3 ہزار 844 شہادتیں (عام شہری، فوجی، اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار) ہوئی ہیں، 10 ہزار 347 دہشت گرد حملے ہوئے ہیں۔

جنگ بندی مذاکرات
جمعہ کی رات ہونے والے تازہ حملوں نے جنگ بندی پر سائے ڈال دیے، جس میں چند گھنٹے پہلے ہی توسیع کی گئی تھی، ساتھ ہی دوحہ مذاکرات کے امکانات پر بھی سوال اٹھا دیے۔

ایک سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان اور افغانستان دونوں نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کے اختتام تک جنگ بندی کو باہمی طور پر بڑھا دیا ہے، مذاکرات (ہفتہ) کو شروع ہونے کے لیے تیار ہیں۔

دو روزہ جنگ بندی زیادہ تر بغیر کسی خلاف ورزی کے برقرار رہی، لیکن اس دوران کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں ہو سکے، جن کا مقصد ایک پیچیدہ مگر قابلِ حل مسئلے کو سلجھانا تھا، جیسا کہ پاکستانی دفترِ خارجہ نے بیان کیا تھا۔
دفترِ خارجہ کے ترجمان شفقات علی خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا تھا کہ افغانستان عالمی دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری کو غفلت برتنے سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں کسی بڑے عالمی سانحے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، یہ آگ پھیل رہی ہے، اسے ابھی روکنا ہوگا۔


پہلے مرحلے میں کسی دو طرفہ مذاکراتی پیش رفت کا آغاز نہیں ہو سکا، تاہم قطر نے پیشکش کی کہ مذاکرات دوحہ میں ہوں، ذرائع کے مطابق مذاکرات جمعرات یا جمعہ کے لیے طے تھے مگر لاجسٹک وجوہات اور طالبان قیادت کی ہچکچاہٹ کے باعث ایک دن کے لیے مؤخر کر دیے گئے۔
افغانستان سے موصولہ اطلاعات کے مطابق طالبان کا وفد وزیرِ دفاع ملا یعقوب مجاہد اور انٹیلیجنس چیف ملا واسع پر مشتمل ہوگا۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے خاموشی اختیار کیے رکھی، لیکن نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اور آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک اور وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار کی شام کے وقت ملاقات سے یہ عندیہ ملا کہ جنرل ملک ممکنہ طور پر دوحہ جائیں گے۔

لاشوں کی واپسی
جمعہ کے روز افغان حکام نے چمن سیکٹر میں ہونے والے طالبان حملے میں شہید ہونے والے 7 پاکستانی شہریوں (جن میں 2 سیکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے) کی لاشیں پاکستانی حکام کے حوالے کر دیں۔

طالبان حکام نے تمام 7 لاشیں ہلالِ احمر پاکستان کے ذریعے حوالے کیں، تنظیم کے بلوچستان چیپٹر کے عبدالولی خان غبیزئی نے تصدیق کی اور انہوں نے بتایا کہ طالبان حکام نے ویژ منڈی بارڈر پوسٹ پر اعلان کیا کہ وہ ان پاکستانیوں کی لاشیں واپس کر رہے ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان مسلح جھڑپ میں مارے گئے تھے۔

لاشوں کو ضلعی ہسپتال چمن منتقل کیا گیا، جہاں شناخت اور قانونی کارروائی کی گئی۔

ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد اویس کے مطابق 5 لاشیں ضلعی ہسپتال چمن لائی گئیں، ان میں سے 4 کی شناخت بارڈر ٹاؤن کے رہائشیوں کے طور پر ہو چکی ہے، جب کہ پانچویں لاش کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔

2 شہدا کی شناخت نائیک سلیمان اور سپاہی صابر کے طور پر ہوئی، جن کی لاشیں بعد ازاں سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کر دی گئیں۔

حکام کے مطابق 5 عام شہریوں میں سے 4 مارٹر گولے کے چھروں سے جب کہ ایک سر پر گولی لگنے سے جاں بحق ہوئے۔

مقتولین میں سید علی ادوزئی، محمد اصغر اشیازئی، روزی خان صالح زئی، اور نصیب اللہ صالح زئی مزدور پیشہ افراد تھے، جنہیں جمعہ کی شام ان کے آبائی گاؤں میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

چمن کے مقامی باشندوں کا کہنا تھا کہ اس سے قبل طالبان کے اسپن بولدک حملوں میں کم از کم 12 پاکستانی شہری مارے جا چکے ہیں۔

فوجی اہلکاروں کی لاشوں کی مبینہ بے حرمتی کی خبروں پر دفترِ خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا تھا کہ اس طرح کی درندگی اور وحشیانہ حرکت کی شدید مذمت کی جانی چاہیے یہ انسانیت سے گری ہوئی حرکت ہے، جس نے پاکستانی عوام کو گہرے دکھ اور صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ یہ ایسا معاملہ نہیں جو آسانی سے بھلایا یا معاف کیا جا سکے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سیکیورٹی ذرائع ذرائع کے مطابق اور افغانستان پاکستان کے کہا تھا کہ طالبان کے انہوں نے نہیں ہو کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار