افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانے ناقابلِ قبول ہیں، رانا تنویر حسین
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کو افغان سرزمین پر موجود دہشتگردوں کے ٹھکانے کسی صورت قبول نہیں۔
مریدکے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان ایک برادر اور ہمسایہ ملک ہے، لیکن اگر وہ بھارت کی پراکسی بننے کی کوشش کرے گا تو پاکستان چپ نہیں بیٹھے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ افغان حکومت کو چاہیے کہ دہشتگرد عناصر کو روکے، ورنہ پاکستان اپنے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔
رانا تنویر کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کا خواہاں ہے، کیونکہ خطے میں استحکام سب کے مفاد میں ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خاتمے کے لیےپختہ ارادہ کرچکا ہے۔
انہوں نے سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ پیرول پر رہائی کی دعائیں کرنے والا ہی آج خطے میں کشیدگی کی وجوہات بن رہا ہے،سہیل آفریدی آل راؤنڈر نہیں بلکہ بزدار ٹو ثابت ہوگا۔
زرعی شعبے پر بات کرتے ہوئے رانا تنویر نے کہا کہ زرعی ترقی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے، اور اگر تسلسل اور استحکام قائم رہا تو پاکستان ایک مضبوط معیشت کے طور پر ابھرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رانا تنویر کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔