پاکستان سے 8 ارب 10 کروڑ مالیت کی امداد فلسطین پہنچانے کے بعد غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
پاکستان میں غزہ کی بحالی اور تعمیر نو کیلیے 15 ارب روپے پر مشتمل پروگرام شروع کرنے کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان نے جنگ بندی کے بعد غزہ کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے 15 ارب روپے پر مشتمل ’’ری بلڈ غزہ‘‘ پروگرام کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔
غزہ میں امدادی سرگرمیوں کے بعد مصر سے واپسی پر فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر حفیظ الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک غزہ کے متاثرین کے لیے 8 ارب 10 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں جبکہ 5 ہزار ٹن امدادی سامان پر مشتمل 35 کنسائنمنٹس ائیر کارگو اور بحری راستوں سے غزہ روانہ کی جا چکی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ الخدمت کی جانب سے خیمے، کمبل، خوراک، آٹا، چاول، ہائی جین کٹس، ڈلیوری کٹس اور بے بی کٹس سمیت دیگر ضروری اشیائے خوردونوش بھیجی گئیں ہیں۔
ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے کہا کہ ’’ری بلڈ غزہ‘‘ پروگرام کے پہلے مرحلے میں 6 ہزار خاندانوں کے لیے فوڈ پیکجز، 100 ٹن امدادی سامان اور 100 ٹن چاول قاہرہ سے غزہ بھیجے جا رہے ہیں جبکہ 100 ٹن قربانی کے گوشت کو ریڈی ٹو ایٹ پیکٹس کی صورت میں تیار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ غزہ میں الخدمت کے چھ واٹر فلٹریشن پلانٹس پہلے ہی کام کر رہے ہیں، جنہیں بڑھا کر پینے کے صاف پانی کے 100 منصوبوں تک توسیع دی جائے گی جبکہ موسمِ سرما کی آمد کے پیش نظر آئندہ ہفتے پاکستان سے دو کارگو فلائٹس روانہ کی جائیں گی جن میں شیلٹرز، خیمے، کمبل، گرم کپڑے اور سلیپنگ بیگز شامل ہوں گے۔
ڈاکٹر حفیظ نے بتایا کہ غزہ میں دو شیلٹر اسکول فعال ہیں جبکہ مختلف صوبوں میں مزید پانچ اسکول قائم کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں الخدمت اسکالرشپس پر موجود 404 فلسطینی طلبہ کی تعداد کو ایک ہزار تک بڑھایا جائے گا، جبکہ غزہ میں یتیم بچوں کی کفالت 750 سے بڑھا کر 3 ہزار تک کی جا رہی ہے۔
صدر الخدمت کے مطابق شہداء فیملیز کی رجسٹریشن 1550 خاندانوں تک مکمل ہو چکی ہے جن میں سے 50 خاندانوں کی کفالت کا آغاز کر دیا گیا ہے، طبی سہولیات کے حوالے سے بتایا گیا کہ اب تک 394 ٹن ادویات اور تین ایمبولینسز غزہ میں خدمات فراہم کر رہی ہیں جبکہ 500 زخمیوں کو پاکستان لا کر علاج فراہم کرنے کا منصوبہ بھی حتمی مراحل میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیلڈ ہاسپٹل کی تیاری مکمل کر لی ہے جہاں مصنوعی اعضا کی تیاری کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی، جب کہ ’’ری بلڈ غزہ‘‘ کے تحت پانچ شیلٹر مساجد کی تعمیر کا آغاز کر دیا گیا ہے جسے بتدریج 25 تک بڑھایا جائے گا۔
ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے کہا کہ یہ پروگرام محض ریلیف نہیں بلکہ غزہ کے لوگوں کی پائیدار بحالی کی جانب ایک جامع قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کا تعاون ہمارا حوصلہ ہے اور ہم غزہ کے عوام کو باوقار زندگی کی طرف لوٹانے تک اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے۔ پریس بریفنگ میں سیکرٹری جنرل سید وقاص جعفری، نائب صدور اور دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر حفیظ نے کہا کہ بتایا کہ ہیں جبکہ انہوں نے کہ غزہ
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے