سعودی عرب میں فجر کے وقت فلک پر آنکھوں کو خیرہ کردینے والا کون سا منظر دیکھا جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
سعوی عرب کے آسمانوں پر برسوں بعد ایک ایسا منظر نظر آنے والا جس کا وقت فجر کی نماز کا وقت ہوگا اور شاز و نادر ہی دنیا میں پیش آتا ہے۔
ماہرین فلکیات نے اس نایاب منظر کو "الجباریات" یعنی شہابیوں کی بارش کا نام دیا ہے جو آسمان کو ایسے روشن کرے گی جیسے شاہراہِ فلک پر تاروں کا جلوس نکل رہا ہو۔
یہ مناظر 2 اکتوبر سے 7 نومبر تک نماز فجر سے کچھ دیر قبل دکھائی دیں گے۔ فی گھنٹہ تقریباً 20 شہاب دیکھے جا سکتے ہیں اور ایسے منظر 36 سال میں ایک بار نظر آتے ہیں۔
یہ محض ایک سائنسی واقعہ نہیں، بلکہ قدرت کی ایسی نشانی ہے جسے دیکھنے کے بعد انسان خود سے کہے گا کہ "فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ" (پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟)
سعودی میڈیا کے مطابق فجر سے قبل آسمان پر شہابِ ثاقب کی برسات ہوگی۔ ہر چند لمحوں بعد آسمان کو چیرتی روشنی کی لکیر، چمکتے ستارے، روشن دم کے ساتھ گزرتے شہاب نظر آئیں گے جیسے گویا آسمان تسبیح کے دانے گرا رہا ہو۔
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ نظارہ آنکھوں سے بغیر کسی دوربین کے دیکھا جا سکے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ