شہید اسسٹنٹ کمشنر شاہ ولی اور دو پولیس جوانوں کی نماز جنازہ ادا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بنوں میں دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید اسسٹنٹ کمشنر اور 2 پولیس اہلکاروں سمیت 4 افارد کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے آئی جی پولیس سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہید اسسٹنٹ کمشنر میرانشاہ شاہ ولی اور دو پولیس جوانوں کی نماز جنازہ بنوں میں ادا کر دی گئی۔ نماز جنازہ میں آئی جی خیبر پختونخوا، جنرل آفیسر کمانڈنگ میرانشاہ اور دیگر عسکری و سول حکام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے شہداء کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ شرکاء نے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار بھی کیا۔ نمازِ جنازہ کے اختتام پر ملکی سلامتی، امن اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں اور کہا گیا کہ قوم اپنے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی، شہداء ملک کی سلامتی اور امن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بنوں میں دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید اسسٹنٹ کمشنر اور 2 پولیس اہلکاروں سمیت 4 افارد کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے آئی جی پولیس سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔ سہیل آفریدی نے اپنے بیان میں کہا کہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے، ملک دشمن عناصر ایسے بزدلانہ حملوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ واقعے میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ مزید مضبوط عزم کے ساتھ جاری رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شہید اسسٹنٹ کمشنر
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔