سال 2025کا آخری سپر مون کل،پاکستان میں بآسانی دیکھا جاسکے گا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: رواں سال 2025کا آخری سپر مون کل ہوگا۔
میڈیا ذرائع کے مطابق دسمبر کا سپر مون، جو دنیا بھر میں ونٹر فل مون اور کولڈ مون کے نام سے جانا جاتا ہے، کل رات آسمان پر پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوگا۔
ماہرین فلکیات کے مطابق نومبر کا سپر مون بھی سال کا سب سے بڑا اور روشن چاند تھا، تاہم دسمبر کا سپر مون اس سال کا آخری سپر مون ہوگا، جو غیر معمولی چمک اور جسامت کے ساتھ دکھائی دے گا۔اس شاندار فلکی مظاہرے کے دوران چاند تقریباً 3 لاکھ 57 ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر ہوگا، جو اپنے مدار کے قریب ترین مقام Perigee پر ہونے کے باعث عام دنوں کی نسبت 8 فیصد بڑا اور 15 فیصد زیادہ روشن نظر آئے گا۔
پاکستان میں سپر مون کو بغیر کسی خصوصی آلات کے عام آنکھ سے دیکھا جاسکے گا۔ ساحلی علاقوں، کھلے مقامات اور شہروں سے باہر چاند کی دودھیا روشنی کا نظارہ نہایت واضح اور دلکش ہوگا۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں سپر مون 4 دسمبر کو شام 4 بج کر 58 منٹ پر 99.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔