Express News:
2026-07-24@08:24:07 GMT

کراچی سے بے زار کیوں؟

اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT

ملک میں صوبوں کی تعداد بڑھانے یا انتظامی یونٹ بنانے کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں تو کراچی کی حالت زار دیکھ کر کراچی کو اسلام آباد کی طرح وفاق کا حصہ بنانے کا مطالبہ بھی شروع ہوگیا ہے۔ لاہور کے سابق سٹی ناظم میاں عامر محمود کے بعد سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی ملک میں صوبے بڑھانے کی حمایت اور مطالبہ کیا ہے جب کہ کراچی کی بعض تنظیمیں بھی کراچی کو الگ صوبہ بنانے کے مطالبات کرتی رہی ہیں اور یہ بھی مطالبہ ہو رہا ہے کہ کراچی کو وفاق کا حصہ بنایا جائے۔

واضح رہے کہ مرحوم پیر صاحب پگاڑا بھی کراچی کو وفاق کا حصہ بنانے کے حامی تھے۔ کراچی کو صوبہ بنانے کی پیپلز پارٹی سخت مخالف جب کہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی حامی ہے اور پی ٹی آئی نے بھی 2018 کے الیکشن میں سیاسی مفاد کے لیے جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا جو دونوں کا سیاسی نعرہ تھا مگر دونوں پارٹیوں نے اپنی حکومتوں میں عملی طور پر کچھ نہیں کیا کیونکہ دونوں کو پتا تھا کہ نئے صوبے کا قیام آسان نہیں اور آئینی مشکلات اس راہ میں حائل ہیں۔کے پی میں ہزارہ صوبے کا مطالبہ بھی سالوں سے ہو رہا ہے جس کی مسلم لیگ (ن) حامی ہے کیونکہ ہزارہ ڈویژن کبھی (ن) لیگ کا گڑھ تھا جہاں سے ماضی میں میاں نواز شریف کے داماد کامیاب ہوتے رہے مگر 2023 میں خود نواز شریف کو ایبٹ آباد سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا جس سے ظاہر ہے کہ اپنے دور میں ہزارہ صوبے کے لیے کچھ نہ کرنے کی وجہ سے (ن) لیگ کی ہزارہ ڈویژن میں مقبولیت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی پنجاب حکومتوں پر الزام لگتا رہا ہے کہ اس نے جنوبی پنجاب کو ترقیاتی منصوبوں میں نظرانداز کیا جس کی وجہ سے جنوبی پنجاب میں (ن) لیگ کی مقبولیت کم اور پیپلز پارٹی کی مقبولیت کہیں زیادہ ہے جس کا ثبوت 2023 کے انتخابات ہیں جس میں جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی کو نمایاں کامیابی ملی اور وہاں پیپلز پارٹی سب سے مقبول پارٹی ہے۔ جنوبی پنجاب کو نظرانداز کرکے لاہور و دیگر علاقوں کو اہمیت دینے کے الزامات کے بعد مسلم لیگ مجبور ہوئی کہ جنوبی پنجاب کو بھی ترجیح دے جس کے بعد پنجاب کی موجودہ حکومت جنوبی پنجاب میں ترقیاتی کام کرا رہی ہے اور جنوبی پنجاب میں بھی الیکٹرک بسیں چلا چکی ہے اور اس کا کریڈٹ بھی خود لے رہی ہے جس پر پیپلز پارٹی کو پنجاب حکومت سے شکایات بھی ہیں کہ حکومت پنجاب اس کے کہنے پر جنوبی پنجاب کو ترقیاتی منصوبے نہیں دے رہی اور اپنے طور پر من مانی کر رہی ہے۔

سندھ میں 17 سالوں سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور اس پر ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی سمیت ساری پارٹیاں الزام لگاتی آ رہی ہیں کہ پیپلز پارٹی کراچی کو ترجیح نہیں دیتی بلکہ کراچی سے دشمنوں جیسا سلوک کر رہی ہے پی پی حکومت نے 17 سالوں میں کراچی کو کوئی میگا پروجیکٹ تک نہیں دیا۔ کراچی کے لوگ اذیت میں زندگی گزار رہے ہیں اور کراچی بے شمار مسائل کا شکار ہے مگر سندھ حکومت کی کراچی پر کوئی توجہ نہیں۔ پیپلز پارٹی بھی وفاقی حکومت کی طرح کراچی کو سونے کی چڑیا سمجھتی ہے جب کہ کراچی سے حاصل ہونے والی آمدنی سے ملک اور سندھ چل رہا ہے جب کہ کراچی کے ٹیکسوں سے وفاق اور سندھ حکومت کو دلچسپی ہے کیونکہ کراچی سندھ اور وفاق کو کما کردیتا ہے۔ سندھ حکومت کراچی پر اپنے مالی وسائل خرچ کرنے کے بجائے چاہتی ہے کہ وفاق کراچی کے لیے مالی وسائل فراہم کرکے اور کراچی کے مسائل حل کرائے۔

کراچی میں کے فور کا منصوبہ اور یونیورسٹی روڈ اور گرومندر سے ٹاور تک جو بسوں کے منصوبے زیر تعمیر ہیں ان کے لیے فنڈز وفاق اور سندھ حکومت نے فراہم کرنے ہیں مگر دونوں حکومتیں سنجیدہ نہیں، جس کی وجہ سے کئی سال سے یونیورسٹی روڈ پر سفر عذاب بنا ہوا ہے جہاں فنڈز ہو تو کام چلتا ہے کبھی رک جاتا ہے جب کہ یہ ایک اہم شاہراہ ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں افراد سفر کرتے ہیں اور منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوتا ہے اور زیر تعمیر منصوبے سے لوگ سخت پریشان ہیں اور ٹریفک جام رہنا معمول بنا ہوا ہے۔

کراچی کے مسائل سے عدم دلچسپی سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی اور اس کی سندھ حکومت کراچی سے خود بے زار ہے اور کراچی کو سندھ حکومت فنڈز دینا ہی نہیں چاہتی اور وفاق سے کراچی کے مسائل حل کرانا چاہتی ہے اور اپنے فنڈز کراچی پر خرچ نہیں کر رہی۔ وفاق کا فنڈ محدود اور سندھ حکومت کے مالی وسائل زیادہ ہیں جو کراچی پر خرچ نہیں کیے جا رہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سندھ حکومت کراچی سے بے زار ہے اور اسے کراچی سے نہیں کراچی سے ہونے والی آمدنی سے دلچسپی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جنوبی پنجاب کو پیپلز پارٹی سندھ حکومت کراچی پر کراچی کے اور سندھ کہ کراچی کراچی سے کراچی کو ہے جب کہ وفاق کا ہیں اور کے لیے رہی ہے اور اس رہا ہے ہے اور

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ

پنجاب حکومت (Punjab Government)نے یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی سرکاری تعطیلات کے پیش نظر صوبے کے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی تنخواہیں، الاؤنسز اور پنشن مقررہ تاریخ سے قبل ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

محکمہ خزانہ پنجاب کے مطابق تمام سرکاری ملازمین کو جولائی کی تنخواہیں اور واجب الاؤنسز 31 جولائی کو ادا کیے جائیں گے، جبکہ صوبے کے تمام پنشنرز کو بھی اسی روز جولائی کی پنشن جاری کر دی جائے گی۔

محکمہ خزانہ نے بتایا کہ اس سلسلے میں گورنر پنجاب (Governor of Punjab) نے 31 جولائی کو تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن کی قبل از وقت ادائیگی کی منظوری دے دی ہے تاکہ تعطیلات کے باعث ادائیگی میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔

مزیدپڑھیں:دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری

فیصلے پر عملدرآمد کے لیے محکمہ خزانہ نے اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب (Accountant General Punjab)، تمام ضلعی ٹریژری دفاتر اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس افسران کو باضابطہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ متعلقہ بینکوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 31 جولائی کو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرز کی پنشن کی بروقت ادائیگی کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کریں۔

حکام کے مطابق یکم اور 2 اگست کو ہفتہ اور اتوار کی تعطیلات کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو بروقت ادائیگی یقینی بنائی جا سکے اور انہیں مالی معاملات میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن