کراچی، جرائم پر قابو پانے میں ناکامی اور غفلت برتنے پر ایس ایچ او بلوچ کالونی برطرف
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
جرائم پر قابو پانے میں ناکامی اور لاپرواہی و غفلت برتنے پر ایس ایچ او کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ایسٹ ڈاکٹر فرخ رضا نے جرائم پر قابو پانے میں ناکامی اور غفلت و لاپروائی برتنے پر ایس ایچ او بلوچ کالونی کو ملازمت سے برطرف کر دیا۔
ایس ایس پی کی جانب سے ایس ایچ او بلوچ کالونی کی ملازمت برطرفی کا حتمی آرڈر بھی جاری کردیا گیا۔
آرڈر میں لکھا گیا ہے کہ ملازمت سے برطرف ایس ایچ او بلوچ کالونی سب انسپکٹر مظہرعلی کانگو کو نوکری میں غفلت برتنے پر متعدد بار شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے گئے تاہم ان کی جانب سے انھیں نظر اندازہ کیا گیا۔
تاہم جاری کیے جانے والے فائنل آرڈر میں ملازمت سے برطرف پولیس افسر کو پولیس رولز کے مطابق اس فیصلے کے خلاف 30 روز میں ڈی آئی جی کراچی رینج کے پاس اپیل کرنے کا حق حاصل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ملازمت سے برطرف
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔