مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان کا ایک اہم اجلاس انجمن کے مرکزی آفس میں منعقد ہوا، جس میں یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر کشمیر کے مظلوم عوام سے مکمل اظہارِ یکجہتی اور بھارتی جارحیت کی شدید مذمت کی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان کا ایک اہم اجلاس انجمن کے مرکزی آفس میں منعقد ہوا، جس میں یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر کشمیر کے مظلوم عوام سے مکمل اظہارِ یکجہتی اور بھارتی جارحیت کی شدید مذمت کی گئی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ 27 اکتوبر 1947ء وہ سیاہ دن ہے جب بھارتی افواج نے تمام بین الاقوامی اصولوں اور کشمیری عوام کی مرضی کے برخلاف ریاستِ جموں و کشمیر پر ناجائز قبضہ کیا، جو آج تک جاری ہے۔ یہ دن نہ صرف کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے بلکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کا بھی دن ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے۔کشمیری عوام گزشتہ سات دہائیوں سے ظلم، جبر، محاصرے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ خاص طور پر 5 اگست 2019ء کے بعد بھارت نے یکطرفہ طور پر کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے خطے میں استحصال، بربریت اور آبادیاتی تبدیلیوں کا خطرناک کھیل شروع کیا، جو ناقابلِ قبول اور بین الاقوامی قوانین کے صریح خلاف ہے۔

بیان کے مطابق مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام ہمیشہ کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کشمیر کی آزادی، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کی بنیاد ہے۔ مرکزی انجمن امامیہ نے اقوامِ متحدہ، او آئی سی، عالمی انسانی حقوق کے اداروں اور عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں اور کشمیری عوام کو ان کا حقِ خود ارادیت دلوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ آخر میں انجمن امامیہ کے صدر سید شرف الدین کاظمی نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام تاریخی، مذہبی اور اخلاقی بنیادوں پر کشمیری عوام کے ساتھ ہیں اور ہر سطح پر ان کی آزادی کی تحریک کی حمایت جاری رکھیں گے۔ یومِ استحصالِ کشمیر کے اس موقع پر انجمن کے تمام اراکین نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ کشمیری عوام کو آزادی، امن اور انصاف عطا فرمائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان کشمیری عوام کشمیر کے

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے