سعودی عرب دنیا کا پہلا اسکائی اسٹیڈیم بنانے کی تیاری کر رہا ہے جسے نیوم کا نام دیا گیا ہے۔

عالمی خبررساں ادارے کی رپورٹس کے مطابق یہ منفرد منصوبہ زمین سے 350 میٹر (تقریباً 1150 فٹ) کی بلندی پر ہوا میں معلق ہوگا۔

اسٹیڈیم کے 2032 میں افتتاح کا امکان ہے اور اس میں فیفا ورلڈکپ 2034 کے میچز کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔

نیوم اسٹیڈیم میں 46 ہزار شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی جسے مکمل طور پر قابل تجدید توانائی (شمسی، ہوا اور پانی سے بننے والی بجلی) سے چلانے کے لیے ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔

Saudi Arabia is set to construct the world's first-ever "sky stadium," officially called NEOM Stadium.

Suspended 1,150 feet above the ground, the venue is expected to open around 2032 and will host matches for the 2034 FIFA World Cup. pic.twitter.com/yfkp79YlHa

— Edwin Musoni (@EdwinMusoni) October 26, 2025

سوشل میڈیا پر زیر گردش رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیوم اسٹیڈیم صرف کھیلوں کا مقام نہیں بلکہ ایک ثقافتی، تفریحی اور سماجی مرکز بھی ہوگا۔

رپورٹس کے مطابق یہاں مردوں اور خواتین کے پیشہ ور فٹبال کلبز موجود ہوں گے جبکہ سال بھر مختلف عالمی ایونٹس بھی منعقد کیے جائیں گے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • اسپاٹیفائی کا عاطف اسلم کو خراج تحسین، گلوکار کی عالمی مقبولیت کا معترف
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ