سعودی عرب کا دنیا کا پہلا ’اسکائی اسٹیڈیم‘ تعمیر کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
سعودی عرب دنیا کا پہلا اسکائی اسٹیڈیم بنانے کی تیاری کر رہا ہے جسے نیوم کا نام دیا گیا ہے۔
عالمی خبررساں ادارے کی رپورٹس کے مطابق یہ منفرد منصوبہ زمین سے 350 میٹر (تقریباً 1150 فٹ) کی بلندی پر ہوا میں معلق ہوگا۔
اسٹیڈیم کے 2032 میں افتتاح کا امکان ہے اور اس میں فیفا ورلڈکپ 2034 کے میچز کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔
نیوم اسٹیڈیم میں 46 ہزار شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی جسے مکمل طور پر قابل تجدید توانائی (شمسی، ہوا اور پانی سے بننے والی بجلی) سے چلانے کے لیے ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔
Saudi Arabia is set to construct the world's first-ever "sky stadium," officially called NEOM Stadium.
— Edwin Musoni (@EdwinMusoni) October 26, 2025
سوشل میڈیا پر زیر گردش رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیوم اسٹیڈیم صرف کھیلوں کا مقام نہیں بلکہ ایک ثقافتی، تفریحی اور سماجی مرکز بھی ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق یہاں مردوں اور خواتین کے پیشہ ور فٹبال کلبز موجود ہوں گے جبکہ سال بھر مختلف عالمی ایونٹس بھی منعقد کیے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔