البانیہ کی مصنوعی ذہانت سے بنی وزیر ڈیلا کے ہاں 83 ڈیجیٹل بچوں کی پیدائش متوقع
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
البانیہ کی تاریخ میں پہلی مصنوعی ذہانت سے بنی وزیر ڈیلا کے ہاں جلد ہی 83 ڈیجیٹل بچوں کی پیدائش متوقع ہے جو دراصل ملک کے 83 ارکانِ پارلیمنٹ کے لیے بطور اے آئی اسسٹنٹ خدمات انجام دیں گے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق البانیہ کے وزیر اعظم ایڈی راما نے برلن گلوبل ڈائیلاگ کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ ڈیلا کے یہ بچے حقیقی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت پر مبنی معاونین ہوں گے جو سوشلسٹ پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کے کاموں میں مدد فراہم کریں گے۔
وزیر اعظم ایڈی راما نے بتایا کہ ہر اے آئی بچہ ایک رکن پارلیمنٹ کے ذاتی معاون کے طور پر کام کرے گا، پارلیمانی اجلاسوں میں شرکت کرے گا، بحث و مباحثے کے نکات نوٹ کرے گا، کارروائی کا ریکارڈ رکھے گا اور ارکان کو مختلف تجاویز بھی پیش کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی رکن اجلاس کے دوران غیر حاضر ہو تو یہ اے آئی اسسٹنٹ اسے مکمل طور پر باخبر رکھے گا اور حتیٰ کہ مخالفین کے بیانات پر مؤثر جوابی ردعمل کے لیے تجاویز بھی فراہم کرے گا۔
ایڈی راما کے مطابق ڈیلا کے یہ ڈیجیٹل بچے اپنی ماں یعنی وزیر ڈیلا کے علم اور ڈیٹا بیس سے جڑے ہوں گے، انہیں یورپی یونین کے قوانین اور ضوابط سے متعلق مکمل آگاہی حاصل ہوگی اور سال 2026 تک یہ نظام مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔
واضح رہے کہ رواں برس ستمبر میں البانیہ نے دنیا کی پہلی مصنوعی ذہانت پر مبنی وزیر متعارف کروائی تھی، خاتون اے آئی وزیر جن کا نام البانوی لفظ ڈیلا یعنی سورج کے معنی رکھتا ہے،انہوں نے اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا کہ میں انسانوں کی جگہ لینے نہیں بلکہ ان کی مدد کرنے کے لیے ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مصنوعی ذہانت ڈیلا کے کرے گا اے آئی
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔