البانیہ کی مصنوعی ذہانت سے بنی وزیر ڈیلا کے ہاں 83 بچوں کی پیدائش جلد متوقع ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق البانیہ کے وزیر اعظم ایڈی راما نے برلن گلوبل ڈائیلاگ کانفرنس کے دوران البانوی اے آئی وزیر ڈیلا کے ہاں جلد ہی 83 بچوں کی پیدائش کا انکشاف کیا۔

وزیراعظم ایڈی کے مطابق ڈیلا کے ہاں جلد ہی 83 بچوں کی پیدائش متوقع ہے ، ان بچوں سے مراد حقیقی بچے نہیں بلکہ ڈیجیٹل اے آئی معاونین ہیں جو برسر اقتدار سوشلسٹ پارٹی کے 83 ارکانِ پارلیمنٹ کے لیے بطور اسسٹنٹ کام کریں گے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ ہر اے آئی بچہ ایک معاون کے طور پر کام کرے گا،یہ بچے پارلیمانی اجلاسوں میں شرکت کریں گے، اجلاسوں میں ہونے والے تمام معاملات کا ریکارڈ رکھیں گے، نوٹس بنائیں گے اور ارکان پارلیمنٹ کو تجویز بھی پیش کریں گے۔

ایڈی راما کا کہنا تھا کہ مثال کے طور پر، اگر کوئی رکن دوران اجلاس کافی پینے جائے تو یہ آے آئی اسسٹنٹ اجلاس میں ہوئے معاملات سے اس رکن کو باخبر رکھیں گے جب کہ حریف پر جوابی حملے کے لیے تجویز بھی پیش کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈیلا کے ان بچوں کو اپنی ماں کا علم ہوگا ، یہ بچے یورپی یونین کے قوانین کی معلومات سے ہم آہنگ ہوں گے اور سال 2026 تک مکمل طور پر فعال ہو جائیں گے۔

البانیہ میں دنیا کی پہلی AI-generated وزیر کا تعارف
واضح رہے کہ رواں برس ستمبر میں دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ البانیہ میں مصنوعی ذہانت سے بنی وزیر کو متعارف کروایا گیا تھا۔

البانوی لباس میں ملبوس خاتون اے آئی وزیر جن کا نام البانوی نام ڈیلا یعنی ’سورج‘ ہے جس نے اپنے پہلے خطاب میں بتایا تھا کہ میں انسانوں کی جگہ لینے کے لیے نہیں بلکہ اُن کی مدد کرنے کے لیے ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ڈیلا کے کے لیے

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں