پی ٹی آئی وفد کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، ملکی و سیاسی امور پر اہم مشاورت
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
اسلام آباد: ملک میں موجودہ سیاسی ماحول میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کا وفد جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچا، جہاں ملکی سیاست، خطے کی صورتحال اور بالخصوص خیبر پختونخوا میں امن و امان کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی وفد نے خیبر پختونخوا میں بڑھتے ہوئے بدامنی کے واقعات کے پیشِ نظر ایک قومی جرگہ بلانے کی تجویز پیش کی، جس پر مولانا فضل الرحمان نے مثبت ردعمل دیتے ہوئے تجویز کا خیر مقدم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو موجودہ حالات میں باہمی اتفاق اور سیاسی مفاہمت کی اشد ضرورت ہے۔
پی ٹی آئی وفد نے اس موقع پر پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کے لیے مولانا فضل الرحمان سے فعال کردار ادا کرنے کی اپیل بھی کی۔ اس حوالے سے دونوں جماعتوں میں محمود خان اچکزئی کو بطور اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے پر اتفاق کیا گیا، جو سیاسی میدان میں ایک بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں خیبر پختونخوا اسمبلی سے سینیٹ کی خالی نشست پر بھی مشاورت ہوئی اور پی ٹی آئی نے جے یو آئی سے انتخابی تعاون کی درخواست کی۔
پی ٹی آئی کے وفد میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، صوبائی صدر جنید اکبر اور شہرام ترکئی شامل تھے، جب کہ جے یو آئی (ف) کی جانب سے مولانا صلاح الدین ایوبی، جلال الدین ایڈووکیٹ اور مولانا اسجد محمود نے شرکت کی۔
ملاقات کے اختتام پر مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی وفد کے اعزاز میں عشائیہ دیا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی وفد
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔