تافتان بارڈر سے خطرناک نشہ آور دوا میتھاڈون کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
کسٹمز حکام نے تافتان بارڈر پر کارروائی کرتے ہوئے خطرناک نشہ آور دوا میتھاڈون کی اسمگلنگ کی بڑی کوشش ناکام بنا دی۔
ایف بی آر کے مطابق ایک کنٹینر میں لدے ہوئے 620 کارٹنوں سے تقریباً 11.16 ملین گولیاں برآمد ہوئیں جن کی مالیت 446 ملین روپے ہے۔
ترجمان ایف بی آر کے مطابق یہ ممنوعہ دوا غلط بیانی اور کسٹمز فراڈ کے مقدمات میں ماخوذ تافتان کے ایک درآمدکنندہ کی ملکیت ہے۔ حکام نے اس کھیپ کو نجی گاڑی میں منتقل کرنے کی کوشش کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا۔
ایف بی آر کے مطابق میتھاڈون کی درآمد صرف ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کی سفارش پر وزارت نارکوٹکس کنٹرول کی جانب سے جاری کردہ این او سی کے ذریعے ممکن ہے۔
کسٹمز نے کنٹرول آف نارکاٹک سبسٹنسز ایکٹ 1997 کی متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کر لی ہے، جب کہ دیگر ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے تفتیش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔