WE News:
2026-06-03@06:32:30 GMT

دانت سفید کرنے کے غیر مستند علاج کیا نقصان پہنچا سکتے ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT

دانت سفید کرنے کے غیر مستند علاج کیا نقصان پہنچا سکتے ہیں؟

دانت سفید کرنے کے غیر مستند علاج مسوڑھوں کو جلا سکتے ہیں اور دانتوں کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مسوڑھوں کی بیماری اور دانتوں کے کیڑے فالج اور دماغی نقصان کی وجہ بنتے ہیں، تحقیق

بی بی سی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کچھ جیلز (کریم) سوشل میڈیا پر کھلے عام فروخت کی جاتی ہیں جن میں قانونی حد سے 500 گنا زیادہ بلیچنگ ایجنٹ موجود ہوتا ہے۔ دانت سفید کرنے والے ایسے غیر مستند علاج اکثر کار پارکنگ اور گھروں کے دروازوں پر بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔

اس تحقیقاتی رپورٹ کے ایک حصے کے طور پر ایک بی بی سی رپورٹر نے جعلی دانت سفید کرنے کی سند حاصل کرلی۔ انہیں انتہائی طاقتور بلیچ دی گئی اور کہا گیا کہ وہ دوستوں اور خاندان کے افراد پر اپنا ہاتھ صاف کریں (پریکٹس کریں)۔

برٹش ڈینٹل ایسوسی ایشن نے بی بی سی کی تحقیقات پر حیرت کا اظہار کیا۔ ایک کیس میں بیچنے والے نے دعویٰ کیا کہ اس کاروبار میں بے حد منافع حاصل کیا جا سکتا ہے۔

انگلینڈ میں قانونی حدود

برطانیہ میں ایسی دانت سفید کرنے والے مصنوعات جو 0.

1 فیصد سے زیادہ ہائیڈروجن پرآکسائیڈ رکھتی ہوں صرف رجسٹرڈ دانتوں کے ڈاکٹر اور پروفیشنلز استعمال کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے: آن لائن ویڈیوز کی مدد سے دانتوں کا علاج کرنے والا جعلی ڈینٹسٹ خاندان پکڑا گیا

دانتوں کے ڈاکٹر کی جانب سے استعمال ہونے والی مصنوعات میں زیادہ سے زیادہ 6 فیصد ہائیڈروجن پرآکسائیڈ ہو سکتی ہے۔

تاہم بی بی سی کے خفیہ رپورٹر کو جو مصنوعات دی گئیں ان کا لیبارٹری ٹیسٹ کیا گیا جس میں معلوم ہوا کہ ان میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کی مقدار 53 فیصد تک ہے جو قانونی حد سے کئی گنا زیادہ ہے۔

واقعہ: کیلی ہاؤسن کی تکلیف

54 سالہ کیلی ہاؤسن نے سنہ 2015 میں لنکاسٹر کے بیوٹی سیلون میں 65 پاؤنڈ میں دانت سفید کروائے جس کے نتیجے میں ان کے 4 دانت ضائع ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ شروع میں مسوڑھے شدید درد دینے لگے اور بعد میں درد مزید بڑھ گیا۔ میں عذاب میں تھی۔

مزید پڑھیں: کیا دانت لگوانا کینسر کا باعث بن سکتا ہے؟

ان کے دانتوں کے ڈاکٹر نے بتایا کہ جیل سے ناقابل تلافی نقصان ہوا اور صرف 4 دانت نکالنے سے ہی درد ختم ہو سکتا تھا۔

کیلی نے کہا کہ اس نقصان کی مرمت میں کئی سال اور لاکھوں پاؤنڈ خرچ ہوئے اور یہ عمل ان کی اعتماد اور معاشرتی زندگی کو بھی متاثر کر گیا۔

غیر قانونی مصنوعات کی فروخت اور تربیت

تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ کچھ بیوٹی سیلونز غیر قانونی مصنوعات اور جعلی تربیتی کورسز فراہم کر رہے ہیں۔

مثال کے طور پر مانچیسٹر میں وائٹ اینڈ برائٹ نام کا ایک سیلون کی بلیچینگ کریم میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کی مقدار دانتوں کے ڈاکٹر کے لیے قانونی حد سے 120 گنا زیادہ تھی۔

یہ بھی پڑھیے: چینی نوجوان دانتوں پر ٹیٹو کیوں بنوا رہے ہیں؟

اسی طرح گھر پر منگوائی جانے والی اس طرح کی کریم یا جیل میں بھی ہائیڈروجن پر آکسائیڈ کی مقدار خطرناک حد تک پائی گئی۔

ماہرین کی وارننگ

ڈاکٹر شلینی کاناگاسنگم (یونیورسٹی آف لنکاسٹر) نے کہا کہ اگر ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کی زیادہ فیصد استعمال کی جائے، خاص طور پر بغیر دانتوں کے ڈاکٹر کی نگرانی کے، تو یہ دانت کو ناقابل تلافی نقصان اور کیمیائی جلن پہنچا سکتی ہے۔

برطانوی حکومت نے عوام سے کہا ہے کہ وہ اگر کسی علاقے میں غیر قانونی طور پر دانت سفید کرنے کی مصنوعات فروخت ہو رہی ہوں تو فوری مطلع کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

دانت دانتوں کا غیر مستند علاج دانتوں کو سفید بنانا سفید دانت

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: دانتوں کا غیر مستند علاج دانتوں کو سفید بنانا سفید دانت غیر مستند علاج دانت سفید کرنے دانتوں کے سکتے ہیں

پڑھیں:

کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا

رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔

امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔

نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔

تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟