کراچی کی سڑکوں پر موت کا کھیل جاری، ڈمپر سے کچل کر 2 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک ) شہر قائد کی سڑکوں پر موت بانٹتے ڈمپروں نے دو مختلف واقعات میں 2 افراد کو کچل کر موت کی نیند سلا دیا۔تفصیلات کے مطابق ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ رزاق آباد میں ڈمپر نے مسافر وین اور رکشے کو کچل دیا، حادثے میں ایک شخص جاں بحق، متعدد افراد زخمی ہوگئے۔عینی شاہد کا کہنا ہے کہ ڈمپر کی ٹکر سے رکشہ ڈرائیور موقع پر جاں بحق ہوگیا جس کی شناخت رحیم بخش کھوسو کے نام سے ہوئی ہے۔دوسرا واقعہ کورنگی چمڑا چورنگی کے قریب پیش آیا جہاں ٹریلر نے راہ گیرکو کچل دیا، پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق شخص کی شناخت نہ ہوسکی، لاش کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق مشتعل افراد موقع پر جمع ہوگئے، جنہوں نے ٹرک کو آگ لگانے کی کوشش کی، ٹریلر قبضے میں لے لیا ہے جبکہ ڈرائیور کی تلاش جاری ہے۔کراچی میں ڈمپر کی ٹکر سے شہری کی ہلاکت، لیاقت محسود کی ضمانت قبل ازوقت گرفتاری منظورواضح رہے کہ کراچی کے علاقے گارڈن میں ڈمپر کی ٹکر سے شہری کے جاں بحق ہونے کے کیس میں ملزم ڈرائیور کو ضمانت مل گئی ہے۔مقامی عدالت نے ڈمپر ڈرائیور نیاز اللہ کی 30 لاکھ روپے کے عوض ضمانت منظور کر لی تاہم زر ضمانت جمع نہ ہونے کے باعث ملزم نیازاللہ کو جیل بھیج دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک