اجتماع عام آئین سے منحرف ظالمانہ نظام بدلنے کی تحریک کا آغاز ہے‘لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان و ناظم اجتماع عام لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ہمارااجتماع عام ظلم و جبر کے مسلط نظام کی تبدیلی کے لیے ہے۔ آئین کو بازیچہ اطفال بنا دیا گیا ہے اور مفاد پرست ٹولہ اپنی مرضی سے اس میں تبدیلیاں کررہا ہے۔ ہم ملک میں جاگیرداری اور سرمایہ داری کے آئین سے متصاد م نظام کو بدلنے کی بات کررہے ہیں۔ملک میں فساد پھیل گیا اورانتشار بڑھتا جارہا ہے۔ بگڑتی صورتحال قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔عوام کے اندر بے چینی اور مایوسی ہے۔عوام کو حوصلہ دینا اور مایوسی سے نکالنا ضروری ہوگیا ہے۔مفاد پرست قوتوں نے پورے نظام کو یرغمال بنا رکھا ہے۔موجودہ حالات میں جماعت اسلامی کا کل پاکستان اجتماع عام بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مینار پاکستان اجتماع عام کے مقام پر پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر مرکزی نائب امیرڈاکٹر اسامہ رضی،ڈپٹی سیکرٹری جنرل اظہر اقبال حسن،سید وقاص انجم جعفری،شیخ عثمان فاروق، سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی،پنجاب وسطی کے امیر جاوید قصوری،حلقہ لاہور کے امیرضیا الدین انصاری،نیشنل لیبر فیڈریشن کے صدر شمس الرحمن سواتی،ذکراللہ مجاہد اور حلقہ خواتین جماعت اسلامی کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیرا طارق،سمیحہ راحیل قاضی اوردیگر ذمے داران بھی موجود تھیں۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ 21تا 23نومبر کو مینار پاکستان کی تاریخی اجتماع گاہ میں منعقد ہونے والا اجتماع عام ایک نئی تاریخ رقم کرے گا اور آئندہ آنے والے مراحل کے لیے مضبوط جدوجہد کا استعارہ بنے گا۔پورے ملک میں اجتماع عام کی تیاریاں جاری ہے۔بلوچستان ، خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر سے نوجوان، طلبہ، اساتذہ،وکلا،کسان مزدوراور خواتین لاکھوں کی تعداد میں اس اجتماع میں شریک ہوںگے۔یہ اجتماع عام دعوت دین اور موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق ہوگا۔ 21نومبر کونماز جمعہ کے بعد3 روزہ اجتماع عام کا آغاز ہو گا۔جمعہ تاریخی بادشاہی مسجد میں ہوگا اور اتحاد العلما العالمی المسلمین کے سربرہ الشیخ الدکتورعلی محی الدین قرہ داغی خطبہ جمعہ دیں گے۔انہوں نے کہا کہ 2014کے بعدیہ اجتماع عام منعقد ہورہا ہے اس میں جماعت اسلامی کی 11 سالہ کارکردگی بھی سامنے آئے گی، مختلف عنوانات پر پروگرام ہوں گے جس میں ماہرین پوری قوم کی رہنمائی کریں گے اور ظلم و جبر کے اس نظام کو بدلنے کے لیے عملی اقدامات تجویز کریں گے۔ معیشت،معاشرت،تعلیم،عدل و انصاف اور زندگی کے تمام شعبوں میں حقیقی تبدیلی اور آئین و قانون کی سربلندی کے تحریک کے خدوخال طے کیے جائیں گے۔ اجتماع عام میں مشاعرے کا اہتمام اور علم و ادب کے حوالے سے بھی پروگرام ہوں گے۔خواتین کی عالمی کانفرنس میں بین الاقوامی شخصیات شرکت کریں گی۔یوتھ اور طلبہ سیشن نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ 40 ممالک سے 200 کے قریب شخصیات اجتماع میں شرکت کریں گی۔ ایک سوال کے جواب میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ مارشل لا شرابی ہو یا نمازی اس کے نتائج ایک ہوتے ہیں۔استعفے اورگرفتاریاں ہماری تاریخ کا حصہ ہیں ہم نے ہمیشہ قومی مفاد اور ملکی سلامتی کو مقدم رکھا ہے۔جماعت اسلامی اجتماع عام بدل دو نظام کے سلوگن پرمنعقد کررہی ہے۔اس لیے اس اجتماع عام کا مرکزی نقطہ ہی نظام کی تبدیلی ہوگا۔ اجتماع عام پر عزم پیغام کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔حالات و واقعات سے مایوس عوام کو رہنمائی دینے کے لیے یہ اجتماع ہے۔ملکی منظر نامے کے حوالے سے پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں کی قیادت وہاں کے مسائل کے حوالے سے اجتماع کو آگاہ کرے گی۔امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن قوم کو آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے، مختلف سیشنزمیں امیر جماعت کے خطاب ہوں گے۔اس اجتماع کے 17 نائب ناظمین اور50 مختلف شعبوں کے ناظمین متعین کیے ہیں۔ اجتماع عام کی سیکورٹی سمیت 5ہزار کارکن مختلف ڈیوٹیاں دیں گے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا کے لیے
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔