چمن سرحد پر ڈرائیوروں کی مشکلات بڑھ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چمن (صباح نیوز) چمن سرحد پر ڈرائیوروں کی مشکلات بڑھ گئیں۔ افغان مہاجرین کو چھوڑ کر واپس آنے والی گاڑیوں کو چیکنگ کے نام پر ایک ہفتے سے زائد روکا جاتا ہے، جس سے ڈرائیور سخت تکلیف اور پریشانی میں مبتلا ہیں۔ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ پانچ سے چھ سو گاڑیاں افغانستان میں پھنس چکی ہیں لیکن حکام روزانہ صرف 30 سے 40 گاڑیوں کو پاکستان میں داخل ہونے دیتے ہیں، جبکہ چمن سے سینکڑوں گاڑیاں معمول کے مطابق پاکستان میں داخل ہو رہی ہیں۔ متاثرہ ڈرائیوروں نے حکومت سے فوری نوٹس لینے اور بلاجواز چیکنگ ختم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ ٹرانسپورٹ اور تجارت کا نظام بحال ہوسکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی اور انہیں علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا ۔ جمعے کو جاری بیان کے مطابق ملاقات میں وزیر تجارت نے ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات بڑھانے اور عالمی مسابقت بہتر بنانے کے اقدامات پر تفصیلی بات چیت کی اورپاکستانی قالینوں کی عالمی منڈیوں میں رسائی اور برآمدی مسابقت بڑھانے کے لیے پالیسی اقدامات کا جائزہ بھی لیا۔وفد نے علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات سے وزیر تجارت کو آگاہ کیا۔(جاری ہے)
وفد نے کہا کہ کاروبار دوست اور قابلِ پیش گوئی پالیسی فریم ورک برآمدات کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ جام کمال نے کہا کہ حکومت شفاف، قواعد پر مبنی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے برآمدات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے،وزارتِ تجارت صنعت کی تجاویز پر متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد قابلِ عمل حل تیار کرے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی برآمدی حکمتِ عملی ویلیو ایڈیشن، برآمدی صنعت، برانڈنگ اور عالمی ویلیو چینز میں شمولیت پر مرکوز ہے، حکومت نجی شعبے کے تعاون سے تجارت میں حائل حقیقی رکاوٹیں دور کر کے برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کو فروغ دے گی۔\932