عملی اصلاح کی بابت چند احادیث
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
(11)
مال اور اولاد آزمائش ہیں: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’بیشک تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں‘‘۔ (التغابن: 15) کعبؓ بن عِیاض بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہؐ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’ہر امت کی آزمائش کسی نہ کسی چیز میں ہے اور میری امت کی آزمائش مال میں ہے‘‘۔ (ترمذی) ’’سیدنا مسور بن مَخرَمہ بیان کرتے ہیں: عمرو بن عوف نے بتایا‘ جو بنو عامر بن لْؤَیّ کے حلیف اور غزوۂ بدر میں رسول اللہؐ کے ساتھ شریک تھے‘ رسول اللہؐ نے ابوعبیدہ بن جراح کو (ایک مہم پر) بھیجا‘ وہ بحرین سے مال لے کر آئے‘ انصار نے ابوعبیدہ کی آمد کے بارے میں سنا تو انہوں نے فجر کی نماز رسول اللہؐ کے ساتھ پڑھی۔ رسول اللہؐ نماز پڑھا کرصحابہ کرامؓ کی طرف متوجہ ہوئے‘ تو انہوں نے وہ مال پیش کیا‘ انہیں دیکھ کر رسول اللہؐ نے تبسم فرمایا اور فرمایا: میرا خیال ہے: تم نے ابوعبیدہ کے مال لانے کی بابت کچھ سنا ہے‘ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! یا رسول اللہؐ! آپؐ نے فرمایا: تو خوشی منائو اور تمہاری مسرت کے لیے اللہ نے جو اسباب پیدا فرمائے ہیں‘ اْن سے اچھی امید قائم کرو‘ (پھر آپؐ نے فرمایا:) واللہ! مجھے تمہارے فقر میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہیں ہے‘ بلکہ مجھے (حقیقی) اندیشہ یہ ہے کہ پچھلی امتوں کی طرح دنیا تم پر کشادہ ہو جائے گی اور تم دنیا کی محبت میں اسی طرح ڈوب جائو گے جیسے پچھلی امتیں مبتلا ہوئیں‘ پس تم بھی اسی طرح ہلاک ہو جائو گے‘ جس طرح تم سے پہلی امتیں (دنیا کی محبت کے غلبے کے سبب) ہلاک ہوئیں‘‘۔ (ترمذی)
(4) ’’سیدنا مْطَرِّفؓ بیان کرتے ہیں: ’’میں نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا‘ اْس وقت آپ سورۂ تکاثر کی تلاوت فرمارہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا: بنی آدم کہتا ہے: میرا مال‘ میرا مال۔ آپؐ نے فرمایا: تمہارا مال کیا ہے‘ بس جو تم نے کھا لیا اور فنا ہو گیا یا جو تم نے پہن لیا اور بوسیدہ ہو گیا یا جو تم نے (اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اللہ کی راہ میں) صدقہ کر دیا اور وہ تمہاری آخرت کے لیے باقی بچا‘‘۔ (مسلم) اس کی مزید تشریح مندرجہ ذیل حدیث سے ہوتی ہے: ’’نبیؐ نے فرمایا: تم میں سے ایسا شخص کون ہے‘ جسے اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال عزیز ہو‘ صحابہ نے عرض کی: یا رسول اللہؐ! ہم میں سے تو ایسا کوئی نہیں‘ ہر شخص کو اپنا مال زیادہ عزیز ہے تو آپؐ نے فرمایا: پس بیشک (تمہاری جائداد میں سے) تمہارا مال فقط وہی ہے جو تم نے اپنی عاقبت کے لیے آگے بھیجا اور جو مال تم (اپنی وفات کے وقت) پیچھے چھوڑ گئے‘ وہ (تمہارا نہیں‘ بلکہ) وہ تمہارے وارثوں کا ہے‘‘۔ (بخاری) ’’اْمّ المومنین سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں: انہوں نے ایک بکری ذبح کی‘ (شام کو) نبیؐ نے پوچھا: اس میں سے (گھر والوں کے لیے) کیا بچا ہے‘ سیدہ عائشہؓ نے عرض کیا: صرف ایک دست بچا ہے (یعنی باقی سب اللہ کے نام پر فقرا کو دے دیا ہے)‘ آپؐ نے فرمایا: (یوں کہو: جو اللہ کے نام پر دیا ہے) وہ سب (اجرِ آخرت کے لیے) بچ گیا ہے سوائے ایک دست کے (جو اپنی ضرورت کے لیے رکھا ہے)‘‘۔ (ترمذی) رسول اللہؐ کے فرمانِ مبارک کا مقصد یہ ہے کہ بکری کا سارا گوشت جو اللہ کے نام پر دیا ہے‘ وہ (آخرت کے لیے) بچ گیا ہے اور ایک دَست جو گھر والوں کے لیے بچ گیا ہے‘ وہ درحقیقت خرچ ہوگیا ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ’’(تم فانی ہو اور) جو تمہارے پاس ہے (ایک دن) وہ فنا ہو جائے گا اور جو (آخرت کے لیے) اللہ کے پاس ہے‘ وہ (درحقیقت) باقی رہ جائے گا اور ہم صبر کرنے والوں کو ان کے عمل کا بہترین اجر عطاکریں گے‘‘۔ (النحل: 96)
’’سیدنا عبداللہؓ بن عمر بیان کرتے ہیں: رسول اللہؐ نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: دنیا میں اس طرح رہو جیسے تم مسافر یا راستے کے راہی ہو‘ پس عبداللہؐ بن عمر کہا کرتے تھے: جب شام ہو جائے تو صبح کا انتظار نہ کرو اور جب صبح ہو جائے تو شام کا انتظار نہ کرو (یعنی ہر وقت موت کے لیے تیار رہو)‘ اپنی صحت کے ایام میں اپنی بیماری کے ایام کے لیے زادِ عمل تیار رکھو اور اپنی فرصتِ حیات میں اپنی موت (اور بعدالموت کے لیے) تیاری کرو‘‘۔ (بخاری) یعنی فرصت کے لمحات کو غنیمت سمجھو‘ پھر حْسنِ عمل کے لیے یہ موقع ہاتھ نہیں آئے گا‘ کیونکہ کسی کو خبر نہیں کہ فرشتۂ اجل کب آ کھڑا ہو۔ نبیؐ نے فرمایا: مالداری (دنیاوی) ساز وسامان کی کثرت کا نام نہیں ہے‘ اصل مالداری دل کا غنی ہونا ہے‘‘۔ (بخاری) یعنی دل پر دنیاوی مال ودولت کی ہوس کا غلبہ نہ ہو‘ دنیا سے ضرورت کی حد تک تعلق ہو اور بندہ سب سے بے نیاز ہو کر اللہ کا نیازمند بن جائے۔ جناب غوث الاعظم کا قول ہے: دنیا کو دل کے دروازے کے باہر رکھو‘ یعنی دنیا سے حسبِ ضرورت استفادہ کرو‘ لیکن اسے دل میں جگہ نہ دو‘ دل اللہ تعالیٰ کے ذکر وفکر سے آباد رہنا چاہیے۔
سیدنا حمزہؓ بن عبدالمطلب کی بیوی سیدہ خولہؓ بنت قیس بیان کرتی ہیں: میں نے رسول اللہؐ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: یہ مال سرسبز اور شیریں ہے‘ جس نے اسے حلال طریقے سے حاصل کیا‘ اس کے لیے اس میں برکت ہو گی اور کتنے ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال کو حرام وناجائز طریقہ سے حاصل کرنے والے ہیں‘ ان کے لیے قیامت کے دن جہنم کی آ گ کے سوا کچھ بھی نہیں ہوگا‘‘۔ (ترمذی) رسول اللہؐ نے فرمایا: اپنے سے کمتر حیثیت کے لوگوں کی طرف دیکھو‘ (اس سے تشکر کی کیفیت پیدا ہو گی) اور اپنے سے برتر لوگوں کی طرف نہ دیکھو‘ (اس سے احساسِ محرومی پیدا ہو گا)‘ بندگی کی شان یہ ہے کہ انسان اللہ کی نعمتوں کی ناقدری نہ کرے‘‘۔ (ترمذی) سیدنا سہلؓ بن سعد ساعدی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبیؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہؐ! مجھے ایسا عمل بتائیے کہ اْسے اختیار کر کے میں اللہ اور بندوں کے نزدیک محبوب بن جائوں‘ آؐ نے فرمایا: دنیا سے رغبت چھوڑ دو‘ اللہ تم سے محبت کرے گا اور لوگوں کے پاس جو کچھ
ہے‘ اس سے بے نیاز ہو جاؤ‘ لوگ تم سے محبت کریں گے‘‘۔ (ابن ماجہ) زید بن حسین نے کہا: امام مالک سے پوچھا گیا: دنیا سے بے رغبتی کیسے حاصل ہوتی ہے‘ انہوں نے فرمایا: کمائی پاکیزہ ہو اور دنیا کی آرزوئیں کم سے کم ہوں‘‘۔ (شعب الایمان) یونس بن میسرہ نے کہا: زْہد ترکِ دنیا اور مال کو اسراف سے ضائع کرنے کا نام نہیں ہے‘ بلکہ زْہد دنیا سے بے رغبتی کا نام ہے کہ جو مال تمہارے پاس ہے‘ اس سے زیادہ تمہیں اس مال پر اعتماد ہو جو اللہ کے پاس ہے اور یہ کہ تیری کیفیت مصیبت اور راحت میں ایک جیسی ہو اور تم اپنے اوپر جائز تنقید کرنے والے کو بھی اتنا ہی پسند کرو جتنا اپنی تعریف کرنے والے کو پسند کرتے ہو‘‘۔ (شعب الایمان) سیدنا علی المرتضیٰؓ نے فرمایا: جو جنت کی آرزو رکھتا ہے وہ نیک کاموں میں جلدی کرے گا اور جو جہنم سے ڈرے گا وہ خواہشات سے اجتناب کرے گا اور جو موت کا انتظار کرے گا اس کے لیے لذتیں ہیچ وحقیر ہوں گی اور جو دنیا سے بے رغبتی اختیار کرے گا‘ اس کے لیے مصیبتوں کا سامنا کرنا آسان ہوگا‘‘۔ (شعب الایمان) رسول اللہؐ نے فرمایا: رزق موت کی طرح بندے کے تعاقب میں رہتا ہے‘‘۔ (ابن حبان) یعنی رزق کی تلاش میں حلال وحرام کی تمیز سے بے نیاز نہ ہو جائو‘ بلکہ اللہ کی تقدیر پر بھروسا کرو‘ مقدر میں جو رزق ہے وہ مل کر رہے گا۔ آپؐ نے فرمایا: ’’مجھے میرے ربّ نے نو چیزوں کا حکم دیا ہے‘ ظاہر وباطن میں اللہ تعالیٰ کی خشیت کا غلبہ‘ غضب اور رضا دونوں کیفیات میں عدل پر مبنی بات کرنا‘ فقر اور مالداری دونوں حالتوں میں میانہ روی اختیار کرنا اور یہ کہ میں اس سے رشتہ جوڑوں جو مجھ سے رشتہ توڑے اور جو مجھے ضرورت کے وقت محروم رکھے‘ میں اس کی ضرورت کے وقت اسے عطا کروں اور جو مجھ پر زیادتی کرے‘ میں اسے معاف کر دوں اور یہ کہ میری خاموشی فکر ہو اور میرا کلام ذکرِ الٰہی پر مشتمل ہو اور میری نظر جہاں بھی پڑے‘ عبرت حاصل کروں اور ہر حال میں نیکی کا حکم دوں‘‘۔ (مشکاۃ المصابیح)
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کرتے ہیں ا خرت کے لیے اللہ تعالی رسول اللہ نے فرمایا انہوں نے ہو جائے دنیا سے اللہ کے جو اللہ گا اور اور تم عرض کی پاس ہے کرے گا اور جو دیا ہے گیا ہے ہو اور
پڑھیں:
شہدا ء کا مقام اور فضیلت
جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔
ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔
1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔
اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔
احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔