Jasarat News:
2026-07-24@03:04:49 GMT

نظامِ پاکستان: کمزوریاں، آئینی تبدیلیاں اور اصلاحات

اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جسے جغرافیائی حیثیت، نوجوان آبادی، انسانی وسائل، اور خطّے میں اہم اسٹرٹیجک مقام جیسی نعمتیں عطا ہیں، مگر ان مواقع سے فائدہ نہ اٹھا پانے کی بنیادی وجہ نظامی کمزوریاں اور پالیسی کی ناپائیداری ہے۔ معاشی زوال، سیاسی عدم استحکام، ٹیکنالوجی میں پسماندگی، ماحولیاتی خطرات اور بین الاقوامی سطح پر متزلزل تعلقات، یہ سب ایسے مسائل ہیں جنہوں نے ریاستی ڈھانچے کو کمزور کیا ہے۔ اسی پس ِ منظر میں ستائیسویں آئینی ترمیم ایک بڑے نظامی موڑ کے طور پر سامنے آئی ہے، جس نے ریاستی اداروں کے توازن اور طاقت کی ترتیب کے بارے میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
2024-25 کے دوران پاکستان کی جی ڈی پی کی شرحِ نمو تقریباً 2.

5 فی صد رہی جو ملک کی اصل استعداد کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔ ٹیکس کا محدود دائرہ، قرضوں کی بھاری ادائیگیاں، کرنسی کی بے قدری، تجارت کا بڑھتا خسارہ، اور سرمایہ کاری میں کمی نے معاشرے کے بڑے حصے کو متاثر کیا ہے۔ مہنگائی کی شدت نے متوسط اور نچلے طبقے کو شدید دباؤ میں رکھا، جبکہ معیشت کی غیر رسمی نوعیت ریاستی محصولات میں مسلسل رکاوٹ بنی رہی۔ ایسے ماحول میں معاشی اصلاحات پر قومی اتفاقِ رائے ناگزیر ہے، لیکن عملی سطح پر سیاسی تقسیم نے پالیسیوں کی تسلسل کو بار بار متاثر کیا۔ ورلڈ بینک اور دیگر عالمی ادارے مسلسل یہ تجویز کرتے رہے کہ مستقل اور بنیادی اصلاحات کے بغیر ترقی کا سفر ممکن نہیں۔ دنیا مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر، نالج اکانومی اور بائیو ٹیکنالوجی کی طرف منتقل ہو چکی ہے، مگر پاکستان کی رفتار بہت سست رہی۔ مقامی صنعتوں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کے بجائے کلی طور پر خدماتی ماڈل پر انحصار برقرار رہا۔ تحقیقی رپورٹیں اس طرف اشارہ کرتی ہیں کہ پاکستان اگر اے آئی، مقامی ہارڈویئر، سافٹ ویئر، روبوٹکس اور سائنسی تحقیق پر سرمایہ نہیں لگاتا تو عالمی مسابقت میں مزید پیچھے رہ سکتا ہے۔ ریاستی فیصلوں میں سیاسی کھینچا تانی ہمیشہ ایک رکاوٹ رہی ہے۔ اپوزیشن و حکومت کا مسلسل تصادم، پارلیمنٹ کا کمزور کردار، مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان بے اعتمادی، اور سول و عسکری اداروں کے درمیان کردار کی غیر واضح حد بندی، یہ سب عوامل حکمرانی کی صلاحیت کو متاثر کرتے رہے۔ اس ماحول نے بیرونی سرمایہ کاری، معاشی اعتماد اور پالیسی کی پیش رفت کو شدید نقصان پہنچایا۔

پاکستان دنیا کے اْن ملکوں میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ حالیہ اور 2022ء کے تباہ کن سیلاب نے یہ واضح کیا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کا ہمارا نظام کتنا کمزور ہے۔ پانی، زرعی پیداوار، جنگلات، ماحولیاتی آلودگی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے شعبوں میں ریاست سنجیدگی سے سرمایہ کاری نہ کرسکی۔ چین اور امریکا جیسے بڑے ممالک کے ساتھ تعلقات میں عدم استحکام، عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ بار بار مذاکرات، اور امداد پر انحصار، یہ سب پاکستان کی خارجہ پالیسی میں داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ریاست عالمی شراکت داری کو ساختی بنیادوں پر مضبوط کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان داخلی و خارجی مسائل کے بیچ 27 ویں آئینی ترمیم نے ریاستی اداروں کے اندر طاقت کی ازسرِنو تقسیم کی کوشش کی ہے۔ یہ ترمیم کئی حوالوں سے تاریخی، متنازع اور دور رس اثرات رکھتی ہے۔

ترمیم کے بعد ایک نئی وفاقی آئینی عدالت تشکیل دی گئی ہے جو آئین کی تشریح، آئینی تنازعات اور متعلقہ معاملات کا فیصلہ کرے گی۔ اس عدالت کی موجودگی عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ کے کردار پر نئے سوالات کھڑے کرتی ہے۔ ناقدین کے مطابق اس سے عدالتی خودمختاری متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس سے آئینی معاملات کا بوجھ کم ہوگا اور فیصلہ سازی زیادہ واضح ہو جائے گی۔ ترمیم کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا خاتمہ، نیشنل اسٹرٹیجک کمانڈ کا قیام، اور پانچ ستارہ عہدوں کی مستقل آئینی حیثیت، یہ سب اقدامات پاکستان کے دفاعی ڈھانچے کو ایک نئے ماڈل میں ڈھالنے کے مترادف ہیں۔ مزید برآں، اعلیٰ عسکری قیادت کو قانونی استثنیٰ بھی فراہم کیا گیا ہے، جس پر کئی حلقوں نے سوالات اٹھائے ہیں۔ ترمیم میں یہ وضح کیا گیا ہے کہ کوئی عدالت آئینی انحراف یا ماورائے آئین اقدام کو جائز قرار نہیں دے سکتی۔ بظاہر یہ اقدام آئین کے تحفظ کے لیے ہے، مگر ناقدین کے مطابق اس میں کچھ تکنیکی پہلو ایسے بھی شامل ہیں جو مستقبل میں آئینی تنازعات کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

اپوزیشن، وکلا تنظیموں اور آئینی ماہرین نے اس ترمیم کو پارلیمنٹ کی بالا دستی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ ترمیم دفاعی نظم و ضبط کو جدید بنانے کے لیے ضروری تھی، جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ طاقت کے ارتکاز کی طرف ایک نیا دروازہ کھول رہی ہے۔ پاکستان کو اگر حقیقی معنوں میں مستحکم اور ترقی یافتہ ریاست بننا ہے تو چند بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ٹیکس اصلاحات، برآمدات میں اضافہ، ملکی صنعت کا احیاء، تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری اور کاروباری ماحول کی بہتری یہ معاشی استحکام کی بنیاد ہیں۔ پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت، بائیو ٹیکنالوجی اور جدید صنعتی ماڈلز پر فوری توجہ دینا ہوگی۔ پارلیمنٹ، عدلیہ، حکومت اور فوج کے درمیان واضح اور شفاف حدود، یہی کسی بھی مضبوط جمہوری نظام کی اساس ہے۔ پانی، زراعت، جنگلات اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ ریاست کو امداد پر انحصار کم کر کے تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی تعاون کو محور بنانا ہوگا۔ پاکستان کا مستقبل روشن ہوسکتا ہے، مگر اس کے لیے نظام کی مکمل بحالی، وسیع تر اصلاحات، سیاسی اتفاقِ رائے اور ادارہ جاتی توازن لازم ہیں۔ ستائیسویں آئینی ترمیم نے جہاں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، وہیں یہ بھی یاد دلایا ہے کہ پاکستان میں طاقت اور نظام کے ڈھانچے کو ازسرِنو ترتیب دینا ایک حساس اور طویل عمل ہے۔ اگر اصلاحات نیت، شفافیت اور قومی مفاد کے ساتھ کی جائیں تو پاکستان اپنی حقیقی صلاحیت کے مطابق ترقی کے راستے پر آگے بڑھ سکتا ہے ورنہ تاریخ خود کو دہراتی رہے گی۔

محمد مطاہر خان سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سرمایہ کاری اداروں کے کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن