یورپ میں مکڑیوں کا سب سے بڑا جال دریافت
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سائنس دانوں نے یورپ کے جنوبی حصے میں واقع ایک تاریک غار میں مکڑیوں کی حیرت انگیز کالونی دریافت کر کی۔ جسے دنیا کا سب سے بڑا مکڑی کا جال قرار دیا جا رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق یہ انوکھا جال ’’کیو آف سلفر‘‘ نامی غار میں دریافت ہوا ہے جو 106 مربع میٹر کے وسیع علاقے میں پھیلا ہوا ہے اور ہزاروں قیف نما جالوں پر مشتمل ہے۔بین الاقوامی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ جال دو مختلف اقسام کی گھریلو مکڑیوں نے مل کر بنایا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عام طور پر ان میں سے ایک قسم دوسری کو شکار بنا لیتی ہے، تاہم غار میں یہ دونوں پرامن بقائے باہمی کے ساتھ رہ رہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ غار میں روشنی کی مکمل کمی نے مکڑیوں کی نظر کو متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو شکار یا دشمن نہیں سمجھتیں۔تحقیق میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ دونوں اقسام کی مکڑیاں غار میں موجود چھوٹی مکھیوں کو کھاتی ہیں جو سلفر پیدا کرنے والے بیکٹیریا کی سفید تہہ پر پلتی ہیں۔یہ دریافت ثابت کرتی ہے کہ زمین کے اندرونی حصے اب بھی قدرت کے پوشیدہ کرشموں سے بھرپور ہیں، جنہیں انسان ابھی مکمل طور پر دریافت نہیں کر سکا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔