امریکی فضائیہ کا ایف16 تباہ‘ پائلٹ جان بچانے میں کامیاب
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی فضائیہ کے ایلیٹ تھنڈر برڈز ڈیمونسٹریشن سکواڈرن والا لڑاکا طیارہ جنوبی کیلیفورنیا کے صحرا میں گر کر تباہ ہو گیا تاہم پائلٹ بحفاظت باہر نکلنے میں کامیاب رہا۔ سان برنارڈینو کاؤنٹی فائر ڈپارٹمنٹ کے مطابق پائلٹ کا اسپتال میں علاج کیا گیا اور اس کے زخم جان کے لیے خطرہ نہیں تھے۔ نیواڈا میں نیلس ائر فورس بیس کے ایک بیان کے مطابق ایف 16 سی فائٹنگ فالکن کیلیفورنیا میں ایک تربیتی مشن کے دوران گر کر تباہ ہو گیا۔ آگ بجھانے والے محکمے نے کہا کہ اس نے لاس اینجلس کے شمال میں تقریباً 180 میل کے فاصلے پر ٹرونا کمیونٹی کے قریب ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے فوری کارروائی کی۔ اس سے قبل بحریہ کا سپر ہارنیٹ 2022 ء میں ٹرونا کے قریب گر کر تباہ ہو گیا تھا جس سے پائلٹ کی موت واقع ہو گئی تھی۔فضائیہ کے بیان میں کہا گیا کہ حادثے کی تحقیقات جاری ہے اور مزید معلومات ستاونویں ونگ کے دفتر برائے تعلقاتِ عامہ سے جاری کی جائیں گی۔بحریہ کے بلیو اینجلز کی طرح ائر فورس تھنڈر برڈز طیارے فضائی شوز میں اپنے مشہور فنِ ہوابازی کے مظاہرہ کرتے ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے انچوں کے فاصلے پر اڑنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ بلیو اینجلس اور تھنڈر برڈز کی طویل تاریخ میں درجنوں حادثات رونما ہوئے ہیں۔ فضائیہ کے مختصر بیان میں حادثے کے حالات سے متعلق تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔