Jasarat News:
2026-07-24@02:38:07 GMT

پاکستان امن چاہتا ہے… مگر کن شرائط پر؟

اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان کا مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا، نہ افغان عوام کے لیے کوئی نقصان دہ سوچ رکھتا ہے اور نہ ہی کابل کے اندرونی معاملات میں کسی تبدیلی کی خواہش رکھتا ہے۔ پاکستان کا واحد تقاضا اور بنیادی ترجیح صرف ایک ہے: سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت نے حالیہ پریس کانفرنس میں ایک غیر معمولی طور پر واضح جملہ کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے مقابلے کے لیے کسی بھی قابل ِ عمل اور قابل ِ تصدیق بارڈر میکنزم پر ’’اوپن ٹو سجیشن‘‘ ہے۔ اس جملے کو معمولی سفارتی بیان سمجھنا غلط ہوگا۔ دراصل یہی وہ نقطہ ہے جہاں پاکستان نئے علاقائی سیکورٹی فن تعمیر (security architecture) کو تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے صرف ایک ریاست نہیں بلکہ جنگ، نظریے، عسکریت، معیشت اور منشیات کی اسمگلنگ کے بیچ وہ خلا ہے جسے عالمی طاقتیں اور علاقائی قوتیں مختلف زاویوں سے دیکھتی اور برتتی آئی ہیں۔ آج صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ افغان سرزمین براہ راست یا بلاواسطہ تین بڑے خطرات کا مرکز بن گئی ہے: جنگ کی معیشت (وار اکانومی)، ٹرانس نیشنل ٹیررازم اور نارکوٹکس کا غیر قانونی اسپیکٹرم۔ یہ تینوں عناصر ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور انہی کے ذریعے دہشت گرد گروہوں کو مالی وسائل، افرادی قوت اور علاقائی رسائی حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں سینٹرل ایشیا اور روس کے مشترکہ فورمز میں جو اعلانات سامنے آئے، ان میں افغانستان سے جنگ، دہشت گردی اور منشیات کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ تینوں مطالبات دراصل ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ افغان سرزمین محض ایک داخلی مسئلہ نہیں رہی بلکہ پورے خطے کے لیے ایک بڑھتا ہوا سیکورٹی چیلنج ہے۔

پاکستان گزشتہ برسوں میں بارہا یہ بتا چکا ہے کہ پاکستان کے اندر جو بڑے حملے ہوئے، ان کے روابط افغانستان میں موجود عناصر سے جڑے ہیں۔ اس کے جواب میں کابل کی ڈی فیکٹو حکومت یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ یہ وہ افراد ہیں جو پاکستان سے ہجرت کرکے افغانستان آئے اور افغانستان صرف ان کا میزبان ہے۔ بظاہر یہ مؤقف اخلاقی لبادہ اوڑھے ہوئے ہے، لیکن حقیقت میں یہ دلیل عالمی سیکورٹی اصولوں کے مطابق نہ قابل ِ قبول ہے اور نہ ہی قابل ِ عمل۔ کوئی بھی گروہ اگر کسی دوسرے ملک میں آکر تیسرے ملک میں دہشت گردی کرتا ہے تو وہ مہاجر نہیں بلکہ ایک سیکورٹی رسک ہے، جسے روکنا میزبان ریاست کی ذمے داری بنتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان ’ڈینائل موڈ‘ کو ناکافی قرار دیتا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ ثبوت موجود ہیں، نیٹ ورکس traceable ہیں، اور جب تک قابل ِ تصدیق میکنزم نہ ہو، محض بیانات سیکورٹی خلا کو پورا نہیں کر سکتے۔

پاکستان اس وقت نہ جنگ کا خواہاں ہے، نہ کسی رِجیم چینج کا حامی، نہ افغان عوام کے خلاف کسی معاندانہ پالیسی کی طرف بڑھنا چاہتا ہے۔ اسی لیے پاکستان نے واضح کیا کہ اگر افغانستان اور پاکستان کے درمیان ایسے کسی میکنزم کی ضرورت پیش آتی ہے جس میں تیسری قوت یا علاقائی شراکت دار کوئی کردار ادا کریں تو پاکستان اس کے لیے کھلا ہے۔ اس میں ترکیہ، قطر، ایران، روس یا سینٹرل ایشین ممالک کوئی بھی ایسے فارمولے کی تجویز پیش کریں جو دونوں ملکوں کے لیے قابل قبول ہو تو پاکستان اسے نہ صرف ماننے کو تیار ہے بلکہ اس کا خیر مقدم کرے گا۔ اس مؤقف کے پیچھے بنیادی بات یہی ہے کہ پاکستان دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے ہر ایسے راستے کی تلاش میں ہے جو جنگ کے بغیر، تصادم کے بغیر اور عوامی نقصان کے بغیر ممکن ہو۔

ایران کے قومی سلامتی مشیر کی وہ گفتگو بھی اسی تناظر میں اہم ہے جس میں انہوں نے عندیہ دیا کہ ایران خطے میں پاکستان کی سیکورٹی ضروریات کو سمجھتا ہے اور افغانستان یا بھارت کے ساتھ کسی ممکنہ کشیدگی کی صورت میں پاکستان کی درخواست پر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بھی ایک اہم اشارہ ہے کہ ایران بطور ریجنل سیکورٹی اسٹیک ہولڈر پاکستان کی پریشانیوں کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔ اسی طرح ترکیہ اور قطر بھی ماضی میں طالبان اور عالمی برادری کے درمیان مکالمے کو آسان بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ روس اور سینٹرل ایشیائی ریاستوں نے تاجکستان پر ہونے والے حملے کے بعد اپنی تشویش اور زیادہ کھل کر ظاہر کی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹرانس نیشنل ٹیررازم اب صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں رہا۔

بھارت کی ہائبرڈ وار پالیسی اور ’پلیزبل ڈینائیبیلٹی‘ کا ماڈل بھی اس خطے کے سیکورٹی توازن کا حصّہ ہے۔ طالبان کی کابل واپسی کے فوراً بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت بھارت کے پاس تھی، اور اس عرصے میں بھارت نے افغانستان کے معاملے کو اپنی سفارتی حکمت ِ عملی کے مطابق استعمال کیا۔ اسی دوران کینیڈا میں سکھ رہنما نجر سنگھ کا قتل، امریکا میں گروپرب سنگھ کے خلاف مبینہ سازش، اور گینگز کے استعمال کے الزامات بھی سامنے آئے، جو بھارت کی بیرونِ ملک covert operations کے نیٹ ورک کو ایک بڑے علاقائی تناظر میں رکھ دیتے ہیں۔ پاکستان کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ ان تمام عوامل کو ایک مربوط کیس کے طور پر عالمی سطح پر پیش کرے، بغیر کسی اوور اسٹیٹمنٹ کے، تاکہ پاکستان کے مؤقف کی credibility مضبوط ہو۔

امریکا اور مغرب کے حالیہ بیانات میں ایک بار پھر یہ تاثر ابھرتا ہے کہ افغانستان سے منتقل ہونے والے کچھ افراد سیکورٹی رسک بنے، جس کے بعد سابق امریکی قیادت کی طرف سے ’’ری اسیسمنٹ‘‘ اور ’’ڈی پورٹیشن‘‘ جیسے الفاظ استعمال ہوئے۔ یہ بیانیہ اگرچہ امیگریشن ڈیبیٹ کا حصہ ہے، مگر اس کے اثرات براہِ راست افغانستان اور پاکستان پر پڑتے ہیں، کیونکہ اس سے عالمی سطح پر افغانستان مزید تنہا ہوتا ہے اور دہشت گرد گروہوں کے لیے نئی جگہیں بننے لگتی ہیں۔

پاکستان اس وقت جس مقام پر کھڑا ہے وہ نہایت نازک ہے: ایک جانب سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی، دوسری طرف افغان عوام کے ساتھ تاریخی تعلق، تیسری جانب ریجنل اور گلوبل قوتوں کے اپنے مفادات، اور چوتھی جانب افغانستان کا وہ داخلی خلا جسے کوئی بھرنے والا نہیں۔ پاکستان کا ’’اوپن ٹو سجیشن‘‘ مؤقف دراصل یہی بتاتا ہے کہ پاکستان کسی تصادم کا خواہاں نہیں بلکہ مشترکہ سیکورٹی انتظام کی تلاش میں ہے، ایسا انتظام جو جنگ کے بغیر دہشت گردی کے خاتمے کا راستہ فراہم کرسکے۔

پاکستان اس وقت صرف ایک سرحدی ریاست کا کردار نہیں رکھتا بلکہ خطے کی ایک اہم اسٹرٹیجک طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔ سعودی عرب، مصر، قطر اور دیگر ممالک کے ساتھ اس کی حالیہ دفاعی اور سیکورٹی شراکت داریاں، اس کی ایٹمی صلاحیت، اس کی عسکری قوت، اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ اس کی اقتصادی و سلامتی بنیاد پر جڑی ہوئی پالیسی یہ سب عوامل پاکستان کو خطے کے کسی بھی بحران میں ایک ناگزیر اسٹیک ہولڈر بنا دیتے ہیں۔ اسی لیے افغانستان سے اٹھنے والی دہشت گردی نہ صرف پاکستان کے داخلی استحکام کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس کے اثرات براہِ راست خلیجی ممالک، مشرق وسطیٰ کی اقتصادی راہداریوں، اور ریجنل سیکورٹی نظاموں تک جاتے ہیں۔

ایسے میں سوال یہ نہیں کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ کیا کرے گا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا خطے کی ریاستیں پاکستان کے سیکورٹی خدشات کو وہی وزن دینے کے لیے تیار ہیں جو وہ پاکستان کی عسکری، ایٹمی اور جغرافیائی اہمیت کی بنیاد پر دینے کی پابند بھی ہیں؟

سیف اللہ رمیصاء عبدالمھیمن

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہے کہ پاکستان پاکستان کی پاکستان کے پاکستان اس پاکستان کا کے بغیر کے ساتھ کے لیے ہے اور

پڑھیں:

پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔

اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔ 

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

مزید :

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار