Jasarat News:
2026-06-03@05:00:12 GMT

پاکستان امن چاہتا ہے… مگر کن شرائط پر؟

اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاکستان کا مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا، نہ افغان عوام کے لیے کوئی نقصان دہ سوچ رکھتا ہے اور نہ ہی کابل کے اندرونی معاملات میں کسی تبدیلی کی خواہش رکھتا ہے۔ پاکستان کا واحد تقاضا اور بنیادی ترجیح صرف ایک ہے: سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت نے حالیہ پریس کانفرنس میں ایک غیر معمولی طور پر واضح جملہ کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے مقابلے کے لیے کسی بھی قابل ِ عمل اور قابل ِ تصدیق بارڈر میکنزم پر ’’اوپن ٹو سجیشن‘‘ ہے۔ اس جملے کو معمولی سفارتی بیان سمجھنا غلط ہوگا۔ دراصل یہی وہ نقطہ ہے جہاں پاکستان نئے علاقائی سیکورٹی فن تعمیر (security architecture) کو تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے صرف ایک ریاست نہیں بلکہ جنگ، نظریے، عسکریت، معیشت اور منشیات کی اسمگلنگ کے بیچ وہ خلا ہے جسے عالمی طاقتیں اور علاقائی قوتیں مختلف زاویوں سے دیکھتی اور برتتی آئی ہیں۔ آج صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ افغان سرزمین براہ راست یا بلاواسطہ تین بڑے خطرات کا مرکز بن گئی ہے: جنگ کی معیشت (وار اکانومی)، ٹرانس نیشنل ٹیررازم اور نارکوٹکس کا غیر قانونی اسپیکٹرم۔ یہ تینوں عناصر ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور انہی کے ذریعے دہشت گرد گروہوں کو مالی وسائل، افرادی قوت اور علاقائی رسائی حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں سینٹرل ایشیا اور روس کے مشترکہ فورمز میں جو اعلانات سامنے آئے، ان میں افغانستان سے جنگ، دہشت گردی اور منشیات کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ تینوں مطالبات دراصل ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ افغان سرزمین محض ایک داخلی مسئلہ نہیں رہی بلکہ پورے خطے کے لیے ایک بڑھتا ہوا سیکورٹی چیلنج ہے۔

پاکستان گزشتہ برسوں میں بارہا یہ بتا چکا ہے کہ پاکستان کے اندر جو بڑے حملے ہوئے، ان کے روابط افغانستان میں موجود عناصر سے جڑے ہیں۔ اس کے جواب میں کابل کی ڈی فیکٹو حکومت یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ یہ وہ افراد ہیں جو پاکستان سے ہجرت کرکے افغانستان آئے اور افغانستان صرف ان کا میزبان ہے۔ بظاہر یہ مؤقف اخلاقی لبادہ اوڑھے ہوئے ہے، لیکن حقیقت میں یہ دلیل عالمی سیکورٹی اصولوں کے مطابق نہ قابل ِ قبول ہے اور نہ ہی قابل ِ عمل۔ کوئی بھی گروہ اگر کسی دوسرے ملک میں آکر تیسرے ملک میں دہشت گردی کرتا ہے تو وہ مہاجر نہیں بلکہ ایک سیکورٹی رسک ہے، جسے روکنا میزبان ریاست کی ذمے داری بنتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان ’ڈینائل موڈ‘ کو ناکافی قرار دیتا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ ثبوت موجود ہیں، نیٹ ورکس traceable ہیں، اور جب تک قابل ِ تصدیق میکنزم نہ ہو، محض بیانات سیکورٹی خلا کو پورا نہیں کر سکتے۔

پاکستان اس وقت نہ جنگ کا خواہاں ہے، نہ کسی رِجیم چینج کا حامی، نہ افغان عوام کے خلاف کسی معاندانہ پالیسی کی طرف بڑھنا چاہتا ہے۔ اسی لیے پاکستان نے واضح کیا کہ اگر افغانستان اور پاکستان کے درمیان ایسے کسی میکنزم کی ضرورت پیش آتی ہے جس میں تیسری قوت یا علاقائی شراکت دار کوئی کردار ادا کریں تو پاکستان اس کے لیے کھلا ہے۔ اس میں ترکیہ، قطر، ایران، روس یا سینٹرل ایشین ممالک کوئی بھی ایسے فارمولے کی تجویز پیش کریں جو دونوں ملکوں کے لیے قابل قبول ہو تو پاکستان اسے نہ صرف ماننے کو تیار ہے بلکہ اس کا خیر مقدم کرے گا۔ اس مؤقف کے پیچھے بنیادی بات یہی ہے کہ پاکستان دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے ہر ایسے راستے کی تلاش میں ہے جو جنگ کے بغیر، تصادم کے بغیر اور عوامی نقصان کے بغیر ممکن ہو۔

ایران کے قومی سلامتی مشیر کی وہ گفتگو بھی اسی تناظر میں اہم ہے جس میں انہوں نے عندیہ دیا کہ ایران خطے میں پاکستان کی سیکورٹی ضروریات کو سمجھتا ہے اور افغانستان یا بھارت کے ساتھ کسی ممکنہ کشیدگی کی صورت میں پاکستان کی درخواست پر کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بھی ایک اہم اشارہ ہے کہ ایران بطور ریجنل سیکورٹی اسٹیک ہولڈر پاکستان کی پریشانیوں کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔ اسی طرح ترکیہ اور قطر بھی ماضی میں طالبان اور عالمی برادری کے درمیان مکالمے کو آسان بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ روس اور سینٹرل ایشیائی ریاستوں نے تاجکستان پر ہونے والے حملے کے بعد اپنی تشویش اور زیادہ کھل کر ظاہر کی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹرانس نیشنل ٹیررازم اب صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں رہا۔

بھارت کی ہائبرڈ وار پالیسی اور ’پلیزبل ڈینائیبیلٹی‘ کا ماڈل بھی اس خطے کے سیکورٹی توازن کا حصّہ ہے۔ طالبان کی کابل واپسی کے فوراً بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت بھارت کے پاس تھی، اور اس عرصے میں بھارت نے افغانستان کے معاملے کو اپنی سفارتی حکمت ِ عملی کے مطابق استعمال کیا۔ اسی دوران کینیڈا میں سکھ رہنما نجر سنگھ کا قتل، امریکا میں گروپرب سنگھ کے خلاف مبینہ سازش، اور گینگز کے استعمال کے الزامات بھی سامنے آئے، جو بھارت کی بیرونِ ملک covert operations کے نیٹ ورک کو ایک بڑے علاقائی تناظر میں رکھ دیتے ہیں۔ پاکستان کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ ان تمام عوامل کو ایک مربوط کیس کے طور پر عالمی سطح پر پیش کرے، بغیر کسی اوور اسٹیٹمنٹ کے، تاکہ پاکستان کے مؤقف کی credibility مضبوط ہو۔

امریکا اور مغرب کے حالیہ بیانات میں ایک بار پھر یہ تاثر ابھرتا ہے کہ افغانستان سے منتقل ہونے والے کچھ افراد سیکورٹی رسک بنے، جس کے بعد سابق امریکی قیادت کی طرف سے ’’ری اسیسمنٹ‘‘ اور ’’ڈی پورٹیشن‘‘ جیسے الفاظ استعمال ہوئے۔ یہ بیانیہ اگرچہ امیگریشن ڈیبیٹ کا حصہ ہے، مگر اس کے اثرات براہِ راست افغانستان اور پاکستان پر پڑتے ہیں، کیونکہ اس سے عالمی سطح پر افغانستان مزید تنہا ہوتا ہے اور دہشت گرد گروہوں کے لیے نئی جگہیں بننے لگتی ہیں۔

پاکستان اس وقت جس مقام پر کھڑا ہے وہ نہایت نازک ہے: ایک جانب سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی، دوسری طرف افغان عوام کے ساتھ تاریخی تعلق، تیسری جانب ریجنل اور گلوبل قوتوں کے اپنے مفادات، اور چوتھی جانب افغانستان کا وہ داخلی خلا جسے کوئی بھرنے والا نہیں۔ پاکستان کا ’’اوپن ٹو سجیشن‘‘ مؤقف دراصل یہی بتاتا ہے کہ پاکستان کسی تصادم کا خواہاں نہیں بلکہ مشترکہ سیکورٹی انتظام کی تلاش میں ہے، ایسا انتظام جو جنگ کے بغیر دہشت گردی کے خاتمے کا راستہ فراہم کرسکے۔

پاکستان اس وقت صرف ایک سرحدی ریاست کا کردار نہیں رکھتا بلکہ خطے کی ایک اہم اسٹرٹیجک طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔ سعودی عرب، مصر، قطر اور دیگر ممالک کے ساتھ اس کی حالیہ دفاعی اور سیکورٹی شراکت داریاں، اس کی ایٹمی صلاحیت، اس کی عسکری قوت، اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ اس کی اقتصادی و سلامتی بنیاد پر جڑی ہوئی پالیسی یہ سب عوامل پاکستان کو خطے کے کسی بھی بحران میں ایک ناگزیر اسٹیک ہولڈر بنا دیتے ہیں۔ اسی لیے افغانستان سے اٹھنے والی دہشت گردی نہ صرف پاکستان کے داخلی استحکام کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس کے اثرات براہِ راست خلیجی ممالک، مشرق وسطیٰ کی اقتصادی راہداریوں، اور ریجنل سیکورٹی نظاموں تک جاتے ہیں۔

ایسے میں سوال یہ نہیں کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ کیا کرے گا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا خطے کی ریاستیں پاکستان کے سیکورٹی خدشات کو وہی وزن دینے کے لیے تیار ہیں جو وہ پاکستان کی عسکری، ایٹمی اور جغرافیائی اہمیت کی بنیاد پر دینے کی پابند بھی ہیں؟

سیف اللہ رمیصاء عبدالمھیمن

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہے کہ پاکستان پاکستان کی پاکستان کے پاکستان اس پاکستان کا کے بغیر کے ساتھ کے لیے ہے اور

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی