شہزاد آغا کی پوری سیاسی تاریخ تضادات اور مفاد پرستی سے بھری پڑی ہے، عقیل احمد ایڈووکیٹ
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے رہنما عقیل احمد ایڈووکیٹ نے سابق وزیر تعلیم شہزاد آغا کے حالیہ بیان پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کو عملی طور پر چھوڑے بغیر ہی گلبر کی آکسیجن سے پیپلز پارٹی کی حکومت کے قیام کے اشارے دیے جا رہے ہیں، جو سیاسی سنجیدگی کے منافی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے رہنما عقیل احمد ایڈووکیٹ نے سابق وزیر تعلیم شہزاد آغا کے حالیہ بیان پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہزاد آغا کی پوری سیاسی تاریخ تضادات، مفاد پرستی اور فکری انتشار سے بھری پڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ شہزاد آغا جب بی ایس ایف سے وابستہ تھے تو ان کی نگاہ میں تمام دینی جماعتیں دفن ہو چکی تھیں، بعد ازاں جب اسلامی تحریک میں شامل ہوئے تو پیپلز پارٹی کو سیاسی طور پر ختم شدہ قرار دیا گیا۔ آج جب ذاتی و سیاسی مفادات پیپلز پارٹی سے وابستہ ہو چکے ہیں تو وہ بنگالی سنیاسی کا روپ دھار کر مجلس وحدت مسلمین کے خلاف بے بنیاد پیش گوئیوں میں مصروف ہیں۔ عقیل احمد ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کو عملی طور پر چھوڑے بغیر ہی گلبر کی آکسیجن سے پیپلز پارٹی کی حکومت کے قیام کے اشارے دیے جا رہے ہیں، جو سیاسی سنجیدگی کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل تدفین تو اس دن ان کے اپنے سیاسی نظریے کی ہو گئی تھی جب انہوں نے اپنے ہی پلیٹ فارم کو چھوڑ کر اُن عناصر کے قافلے میں شمولیت اختیار کی جو سندھو دیش جیسے انتشار پسند نعروں کے داعی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نظریات کا سودا کر کے دوسروں کے سیاسی مستقبل پر فیصلے صادر کرنا فکری دیوالیہ پن اور سیاسی منافقت کے سوا کچھ نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عقیل احمد ایڈووکیٹ پیپلز پارٹی انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔