مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی جانب سے ٹیلی نار پاکستان کے انضمام کے بارے میں بروقت فیصلہ نہ کیا تو اپریل 2025 تک فائیو جی سروسز شروع کرنے کی حکومت کی ٹائم لائن مزید تاخیر کا شکار ہوسکتی ہے۔

ایک قومی روزنامے کی رپورٹ کے مطابق ٹیلی نار کے پی ٹی سی ایل میں انضمام کے معاملے اور مطلوبہ اسپیکٹرم پر قانونی چارہ جوئی ٹیلی نار کی فائیو جی سروس کے اجرا میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

کنسلٹنسی فرم نیشنل اکنامک ریسرچ ایسوسی ایٹس انکارپوریٹڈ (نیرا) نے حل طلب مسائل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ نیرا نے حکام کو سیلولر موبائل آپریٹرز (سی ایم اوز) کی تعداد کو حتمی شکل دینے کے لیے مطلع کیا ہے، جس میں ٹیلی نار، پی ٹی سی ایل انضمام سے متعلق فیصلہ بھی شامل ہے۔

مزید یہ کہ 2.

6 گیگا ہرٹز بینڈ کا 140 میگا ہرٹز، جو 4 جی اور 5 جی سروس کے لیے اہم ہے، پر بھی قانونی مسائل کا سامنا ہے، صرف 54 میگا ہرٹز دستیاب ہے۔ یہ بینڈوتھ ایک آپریٹر کے لیے بھی ناکافی ہے۔

’نیرا‘ سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے نومبر 2024 میں آئی ایم ٹی اسپیکٹرم کے اجرا کے لیے سفارشات فراہم کرنے کے لیے کنٹریکٹ کیا تھا۔ تاہم انضمام پر سی سی پی کا فیصلہ نہ کرنے اور اسپیکٹرم پر قانونی چارہ جوئی سمیت حل طلب مسائل کنسلٹنسی کی رپورٹ میں تاخیر کا باعث بن سکتے ہیں۔

سی سی پی کے فیصلے کے بعد اس کیس میں پی ٹی اے، ایس ای سی پی اور اسٹیٹ بینک سمیت دیگر ریگولیٹری اداروں کی منظوری درکار ہوگی۔ اس کے بعد کے اقدامات بشمول کابینہ کی منظوری، نیلامی کی ہدایات کی اشاعت اور آپریٹر کی تیاریوں میں مزید کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

اگرچہ پچھلی حکومتوں نے مارچ 2023 تک 5 جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا ہدف مقرر کیا تھا، لیکن موجودہ چیلنجز کے باعث پہلے 5 جی بینڈوتھ کی لانچنگ میں اپریل 2025 سے بھی آگے کا وقت لگ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم

 احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔

پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔ 

احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔ 

انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ 

احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم